صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 300 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 300

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۰۰ ۴۰ - كتاب الوكالة هِيَ قُلْتُ قَالَ لِي إِذَا أَوَيْتَ إِلَى اللہ مجھے نفع دے گا تو میں نے اسے جانے دیا۔ آپ فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا نے پوچھا: وہ کیا باتیں ہیں؟ میں نے کہا: اس نے مجھے حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بتایا ہے ۔ جب تم اپنے بستر پر سونے لگو تو آیتہ الکرسی کو الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة: ٢٥٦) وَقَالَ لِي شروع سے آخر تک پڑھو یعنی اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ ، اور اس نے مجھے بتایا کہ ایسا پڑھنے وَلَا يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الْخَيْرِ سے تم پر اللہ کی طرف سے ایک نگہبان رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا اور صحابہ بھلی الله بات پر بہت ہی حریص ہوتے تھے۔ نبی ﷺ نے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا فرمایا: دیکھو اس نے تم سے سچ کہا ہے، حالانکہ وہ بڑا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ تَعْلَمُ مَنْ جھوٹا ہے۔ ابو ہریرہ! تم جانتے ہو کہ تین راتوں سے تم تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ کس سے باتیں کرتے رہے ہو؟ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ شیطان ہے۔ قَالَ لَا قَالَ ذَاكَ شَيْطَانٌ۔ اطرافه ٣٢٧٥، ٥٠١٠۔ ج تشريح : فَتَرَكَ الْوَكِيلُ شَيْئًا فَأَجَازَهُ الْمُوَكَّلُ فَهُوَ جَائِزٌ : عنوانِ باب میں عمان بن بیشم بصری کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان سے امام بخاری نے جزء القرأة ۔ رأة خلف الإمام میں بھی روایت نقل کی ہے۔ کتاب الحج کے اواخر میں بھی ان کی ایک روایت گزر چکی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۰ ۱۷۷) حضرت ابوہریرہ کی مذکورہ بالا روایت منقطع ہے۔ اس لئے عنوانِ باب ہی میں اس کا حوالہ دینا کافی سمجھا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۶۱۴ ) آیا واقعہ مذکورہ خواب کا ہے یا بیچ بیچ چور آیا اور اس نے ذخیرے میں سے چوری کی؟ دونوں باتوں کا احتمال ہو سکتا ہے۔ لیکن عنوانِ باب کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک خواب کا واقعہ نہیں۔ کیونکہ وہ محض خواب سے مسئلہ اخذ نہیں کرتے اور جملہ فَهُوَ جَائِز اور لفظ جاز سے جملہ شرطیہ کا جواب اثبات میں نمایاں کیا ہے۔ عید الفطر کے صدقات عید سے دو تین دن پہلے جمع ہو جاتے تھے۔ اس موقع پر اُن کی حفاظت حضرت ابو ہریرہ کے سپرد ہوئی اور وہ اس کی فکر میں تین راتیں جاگتے رہے۔ تینوں راتیں چوری کرنے والا آتا رہا اور حضرت ابو ہریرہ اس کے فقر وفاقہ کی حالت سن کر اور اس کی منت و سماجت پر اُسے چھوڑتے رہے۔ اسی واقعہ سے عنوانِ باب کا پہلا مسئلہ اخذ کیا گیا ہے۔ وَإِنْ أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى جَازَ : یہ دوسرا مسئلہ قياساً مستنبط کیا گیا ہے کہ صدقات میں اس غریب شخص کا بھی حق تھا، جس کی وجہ سے حضرت ابو ہریرہ نے وہ کھجوریں اس کے پاس رہنے دیں۔ گو یا بعض فقہاء کے نزدیک اس کے پاس بطور قرض تھیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ امین محافظ اور خزانچی کو اگر مالک کی طرف سے اختیار نہیں دیا گیا تو وہ سپرد کردہ