صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 5
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کرتا ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ میرے مہاجرین بِمِثْلِ حَدِيْثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّ إِخْوَتِي بھائیوں کو بازاروں میں سودا سلف کے لین دین کا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ شغل رہتا اور میں جو نہی اپنا پیٹ بھر لیتا، رسول اللہ بِالْأَسْوَاقِ وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُوْلَ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم سے چمٹارہتا۔میں (آپ کی خدمت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي میں اُس وقت بھی) حاضر ہوتا جبکہ وہ غائب ہوتے فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوْا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا اور میں یاد رکھتا اور وہ بھول جاتے اور میرے انصار وَكَانَ يَشْغَلُ إِخْوَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ بھائی اپنے مالی کاروبار میں مشغول رہتے اور میں عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ وَكُنْتُ امْرَأَ مَسْكِيْنَا مساكين اہل صفہ میں سے ایک مسکین شخص تھا۔میں یاد مِنْ مَّسَاكِيْنِ الصُّفَةِ أَعِيْ حِيْنَ يَنْسَوْنَ رکھتا جبکہ وہ بھول جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ایک حدیث کے دوران جو آپ بیان کر رہے وَسَلَّمَ فِي حَدِيْثِ يُحَدِّثُهُ إِنَّهُ لَنْ تھے، فرمایا کہ اگر کوئی اپنا کپڑا اُس وقت تک پھیلائے يَبْسُطُ أَحَدٌ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي رکھے گا جب تک کہ میں اپنی یہ بات ختم نہ کرلوں، هَذِهِ ثُمَّ يَجْمَعُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ إِلَّا وَعَى مَا پھر وہ اپنا کپڑا سمیٹ لے تو جو بات میں کہتا ہوں، أَقُوْلُ فَبَسَطْتُ نَمِرَةً عَلَيَّ حَتَّى إِذَا اُسے ضرور یاد رکھے گا۔چنانچہ میں نے وہ کملی جو قَضَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اوڑھا کرتا تھا، بچھا دی۔یہاں تک کہ جب رسول اللہ مَقَالَتَهُ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي فَمَا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات ختم فرما چکے تو میں نے نَسِيْتُ مِنْ مَّقَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔اُس کے بعد جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ مِنْ شَيْءٍ۔بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اُسے میں کبھی نہیں بھولا۔اطرافه ،۱۱۸ ، ۱۱۹، ٢٣۵۰ ٣٦٤٨، ٧٣٥٤۔٢٠٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۰۴۸: عبد العزیز بن عبد اللہ (اویسی ) نے ہمیں بتایا کہ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے