صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 6 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 6

صحيح البخاری جلدم ۳۴- كتاب البيوع أَبِيْهِ عَنْ جَدِهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ باپ سے، اُن کے باپ نے اُن کے دادا سے روایت ابْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا قَدِمْنَا کی کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رد الجنه الْمَدِينَةَ آحَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کہتے ہیں: جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سعد بن ربیع کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تو سعد بن ربیع نے کہا: میں انصار میں سے زیادہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ إِنِّي أَكْثَرُ مالدار ہوں۔سو میں تقسیم کر کے نصف مال آپ کو دے الْأَنْصَارِ مَالًا فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي دیتا ہوں اور دیکھئے میری دو بیویوں میں سے جونسی آپ وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيْتَ نَزَلْتُ لَكَ پسندکریں ، میں آپ کے لئے اُس سے دستبردار ہو جاؤں عَنْهَا فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا قَالَ: فَقَالَ گا۔جب اُس کی عدت گذر جائے تو اُس سے آپ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا حَاجَةَ لِي فِي نکاح کرلیں۔راوی کہتا ہے کہ (یہ سن کر ) حضرت ذَلِكَ هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيْهِ تِجَارَةً؟ قَالَ: عبد الرحمن نے ان سے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت سُوْقُ قَيْنُقَاعِ قَالَ: فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ ہیں۔کیا یہاں کوئی منڈی ہے جس میں تجارت ہوتی ہو؟ تو انہوں نے کہا: قینقاع کی منڈی ہے۔راوی کہتا الرَّحْمَنِ فَأَتَى بِأَقِطِ وَسَمْنِ۔قَالَ: ثُمَّ ہے کہ حضرت عبدالرحمن یہ معلوم کر کے صبح سویرے تَابَعَ الْغُدُوِّ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ عَبْدُ وہاں گئے اور پنیر اور گھی لے آئے۔راوی نے کہا: پھر الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ رَسُوْلُ إلى طرح ہر صبح آپ وہاں منڈی میں جاتے رہے۔اسی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجْتَ؟ ابھی کچھ عرصہ نہ گذرا تھا کہ حضرت عبدالرحمن آئے اور قَالَ: نَعَمْ۔قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ : امْرَأَةً مِّنَ اُن پر زعفران کا نشان تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الْأَنْصَارِ۔قَالَ: كَمْ سُقْتَ؟ قَالَ: زِنَةَ فرمایا: کیا آپ نے شادی کر لی ہے؟ عرض کیا : جی ہاں۔نَوَاةٍ مِّنْ ذَهَبٍ أَوْ نَوَاةٌ مِّنْ ذَهَبٍ فَقَالَ آپ نے فرمایا: کس سے؟ کہا: انصار کی ایک عورت لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ سے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے؟ عرض کیا: ایک گٹھلی برابر سونا یا ( یہ کہا کہ سونے کی گٹھلی۔نبی ﷺ نے اُن وَلَوْ بِشَاةٍ۔طرفه: ۳۷۸۰ سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کا ہی سہی۔