صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 292
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۹۲ ۴۰ - كتاب الوكالة قَالَ أَعْطُوْهُ سِنَّا مِثْلَ سِنِهِ قَالُوا ایسی باتیں کہتا ہی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اس کو يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَمْثَلَ مِنْ سِنِهِ ویسی عمر کا اونٹ دے دو جیسا کہ اس کا تھا۔ صحابہ نے فَقَالَ أَعْطُوْهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ کہا: یا رسول اللہ! اس سے بہتر ہی ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہی دے دو۔ کیونکہ تم میں عمدگی سے قرض ادا أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً۔ کرنے والے ہی بہترین لوگ ہیں ۔ اطرافه: ۲۳۰۵، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ۲۳۹۳، ٢۴۰۱، ٢٦٠٦، ٢٦٠٩۔ تشريح : الْوَكَالَةُ فِي قَضَاءِ الدُّيُونِ : سابقہ باب کی روایت ایک اور سند سے یہاں دہرائی گئی ہے اور اس سے ایک نیا مسئلہ مستنبط کیا گیا ہے کہ اگر قرض کی ادائیگی بلا تاخیر ضروری ہو تو اس کے لئے وکیل کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ وکیل مقرر کرنے کی صورت میں تو ادائیگی میں اور تاخیر ہوگی ۔ ابن منیر کی رائے میں ایسی تاخیر نا قابل التفات ہوگی اور اس پر نبی کریم ﷺ کا ارشاد مَطْلُ الْغَنِي ظُلْمٌ (یعنی مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ روایت نمبر ۲۲۸۷) صادق نہیں آئے گا؛ کیونکہ بعض حالات میں وکیل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۶۰۹) بَاب : إِذَا وَهَبَ شَيْئًا لِوَكِيْلٍ أَوْ شَفِيعِ قَوْمٍ جَازَ اگر کوئی کسی وکیل یا کسی قوم کے سفارشی کو کچھ ہبہ کردے تو یہ جائز ہوگا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے نمائندوں لِوَفْدِ هَوَازِنَ حِيْنَ سَأَلُوْهُ الْمَغَانِمَ کو جب انہوں نے آپ سے اموال واپس مانگے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے فرمایا: میرا جو حصہ ہے وہ تمہارا ہے۔ نَصِيْبِي لَكُمْ۔ ۲۳۰۸-۲۳۰۷: حَدَّثَنَا سَعِيدُ ۲۳۰۷-۲۳۰۸: سعید بن غفیر نے ہم سے بیان ابْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیٹ نے مجھ سے بیان کیا۔ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ (لیٹ نے) کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اور عروہ کا خیال تھا کہ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ دونوں نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہیں بتایا کہ جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہو کر