صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 291
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۹۱ ۴۰ - كتاب الوكالة موجودگی کی حالت میں وکیل نہیں کر سکتا ؟ سوائے اس کے کہ وہ بیمار ہو یا سفر پر جا رہا ہو ۔ اسی طرح ان کے نزدیک وکالت کی صحت کے لئے فریق ثانی کی رضا مندی بھی ضروری ہے۔ یعنی یہ کہ وہ مقرر کردہ وکیل کو منظور کرتا ہے یا نہیں۔ امام مالک کے نزدیک اگر فریق ثانی ( مؤکل یعنی جس پر وکیل کے کام کا اثر پڑتا ہے ) اور مقرر کردہ وکیل کی کبھی باہمی مخاصمت ہو چکی ہو تو ایسے شخص کو وکیل بنانا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ ممکن ہے وہ وکیل فریق ثانی کو نقصان پہنچائے۔ صحابہ کرام کے تعامل سے ثابت ہے کہ وہ رضامندی حاصل کرنے کے بغیر اور بلا شرط ایک دوسرے کو وکیل بنایا کرتے تھے، خواہ وکیل موجود ہوتا یا نہ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۲۰۸) مذکورہ بالا فقہی اختلاف کے حل کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ قَهُرَ مَانِهِ : قهرمان لفظ فارسی ہے، بمعنی خزانچی، سربراہ ، کارکن اور خادم جو مالک کے کام کاج انجام دے۔ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاء : تم میں سے بہتر وہی لوگ ہیں جو ادائیگی نہایت اچھی طرح سے کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ حسنہ سے صحابہ کرام کو بھی تلقین فرمائی کہ قرض کی ادائیگی بہترین طریق پر کی جائے ، جیسا کہ اچھے لوگوں کا شیوہ ہے ۔ اگلے باب میں بھی دوسری سند سے یہ روایت لائی گئی ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ قرض خواہ نے مطالبہ میں درشتی سے کام لیا جسے صحابہ نے برا منایا اور وہ اسے تنبیہ کرنے لگے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو۔ حق دار کہنے کا حق رکھتا ہے۔ دونوں فقرے آب زر سے اور لوح قلب پر لکھنے کے لائق ہیں۔ اے کاش! ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق اپنانے کی توفیق ملے ۔ اس تعلق میں کتاب الاستقراض باب ۶،۵، ۷ بھی دیکھئے۔ باب ٦ : الْوَكَالَةُ فِي قَضَاءِ الدُّيُوْنِ قرض ادا کرنے کے لئے وکیل کرنا ٢٣٠٦ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۲۳۰۶: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلِ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ سلمہ بن گہیل سے مروی ہے سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (وہ کہتے تھے : ) میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے سنا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ کہ حضرت ابو ہریرہ رض ا رضی اللہ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ يَتَقَاضَاهُ فَأَغْلَظَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ سے قرض کا تقاضا کرنے لگا۔ لب و لہجہ سخت تھا۔ آپ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے صحابہ اُسے مارنے کے لئے لپکے۔ رسول اللہ دَعُوْهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو؛ کیونکہ حق والا