صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 290
صحيح البخاری جلدم ۲۹۰ بَابه : وَكَالَةُ الشَّاهِدِ وَالْغَائِبِ جَائِزَةٌ حاضر اور غائب ہر ایک کو وکیل کرنا جائز ہے ٤٠ - كتاب الوكالة وَكَتَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى اور حضرت عبد اللہ بن عمر ڈ نے اپنے وکیل کو جو حاضر قَهْرَمَانِهِ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهُ أَنْ يُزَكِّيَ نہیں تھا لکھا کہ وہ ان کے گھر والوں، چھوٹوں، بڑوں عَنْ أَهْلِهِ الصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْرِ۔سب کی طرف سے صدقہ فطر ادا کر دے۔٢٣٠٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۲۳۰۵: ابونعیم فضل بن دکین ) نے ہم سے بیان عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلمہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بن کہیل سے سلمہ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوہریرہ یہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص جَمَلٌ مِنْ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ کا یک سالہ اونٹ کا بچہ نبی ﷺ کے ذمہ قرض تھا۔وہ آپ کے پاس آپ سے تقاضا کرنے آیا۔آپ نے فَقَالَ أَعْطُوْهُ فَطَلَبُوْا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا فرمایا: اسے دے دو۔انہوں نے اس عمر کا اونٹ تلاش لَهُ إِلَّا سِنَّا فَوْقَهَا فَقَالَ أَعْطُوْهُ فَقَالَ کیا۔ایک سالہ تو نہ ملاء اس سے بڑی عمر کا ملا۔آپ نے أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ قَالَ النَّبِيُّ فرمایا: اسے (بڑی عمر ہی کا) دے دو۔اس شخص نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خِيَارَكُمْ آپ نے میرے حق سے بڑھ کر ادا کیا ہے۔اللہ آپ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً۔کو بھی بڑھ کر دے۔نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی عمدگی سے کرتے ہیں۔اطرافه: ۲۳۰۶، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ۲۳۹۳، ٢٤۰۱، ٢٦٠٦، ٢٦٠٩۔تشریح : وَكَالَةُ الشَّاهِدِ وَالْغَائِبِ جَائِزَةٌ: عنوانِ باب میں بغرض وضاحت مسئلہ حضرت عبد اللہ بن عمروہ کا حوالہ دیا ہے۔ان کا وکیل موجود نہ تھا۔لیکن آپ نے اسے اپنی نیابت میں کام کرنے کے لئے لکھا۔نبی ﷺ کا واقعہ جو روایت نمبر ۲۳۰۵ میں مذکور ہے ، اس میں آپ کے وکیل نے آپ کی نیابت میں مفوضہ ذمہ داری ادا کی۔بعض اوقات انسان کسی جگہ جا کر کام سرانجام نہیں دے سکتا، اس لئے وکیل کا محتاج ہوتا ہے اور بعض اوقات موجود ہوکر بھی وکیل کا محتاج ہوسکتا ہے۔دونوں حالتوں میں وکیل بنانے کے جواز کی صورت واضح ہو جاتی ہے۔جمہور کے نزدیک وکالت علی الاطلاق جائز ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک کوئی شخص جو خود اپنے شہر میں موجود ہو، اپنی