صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 289
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۸۹ ۴۰ - كتاب الوكالة عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ غَنَمْ تَرْعَى کعب بن مالک کے بیٹے سے سنا۔ وہ اپنے باپ کی بِسَلْعِ فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ نبت بیان کرتے تھے کہ ان کی بکریاں تھیں جو سلع پہاڑ غَمِنَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا پر چرا کرتی تھیں۔ ہماری ایک لونڈی نے ہماری بکریوں بِهِ فَقَالَ لَهُمْ لَا تَأْكُلُوا حَتَّى أَسْأَلَ میں سے ایک بکری کو بکری کو دیکھا کہ وہ مر رہی ہے۔ اس نے ایک پتھر توڑا اور اُس سے اُس کو ذبح کیا۔ حضرت کعب وسلم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نے گھر والوں سے کہا: جب تک رسول اللہ صل اللہ علیہ أُرْسِلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے میں پوچھ نہ لوں اسے نہ کھانا۔ یا (کہا) جب تک مَنْ يَسْأَلُهُ وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ في صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی کو بھیج کر میں آپ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ أَوْ أَرْسَلَ فَأَمَرَهُ پچھوا نہ لوں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بِأَكْلِهَا ۔ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا کی نسبت پوچھا۔ یاکسی کو بھیج کر پچھوایا۔ آپ نے اس أَمَةٌ وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ تَابَعَهُ عَبْدَةُ عَنْ کے کھانے کی اجازت دی۔ عبید اللہ کہتے تھے: مجھے یہ عُبَيْدِ اللهِ ۔ اطرافه: ٥٥٠١، ٥٥٠٢، ٥٥٠٤ بات بہت پسند آئی کہ اس نے لونڈی ہو کر ( بکری کو ) ذبح کر دیا۔ (معتمر کی طرح ) عبدة ( بن سلیمان ) نے بھی عبید اللہ بن عمر العمری ) سے یہ روایت بیان کی ۔ تشريح : إِذَا أَبْصَرَ الرَّاعِي أَوِ الْوَكِيلُ ۔۔۔ أَصْلَحَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادَ : اس باب کا تعلق حلت و حرمت سے نہیں ؛ بلکہ وکالت سے ہے۔ لونڈی بکریوں والے کی مملوکہ تھی اور اس لحاظ سے ریوڑ کی حفاظت اس کے سپرد تھی۔ اس نے حسن تصرف سے کام لیا اور بکری کو مرتے دیکھا تو ذبح کر دیا۔ پس یوں کرنا وکیل اور محافظ کے لئے جائز ہے اور وکیل استثنائی حالات میں ایسا تصرف کرنے کا مجاز ہے جو نقصان سے بچانے والا ہو۔ فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أُمَةٌ : تعجب کرنے والے شخص مذکورہ بالا راوی ہیں جو عبید اللہ بن عمر ہیں اور عمری کے لقب سے مشہور تھے۔ عبدہ بن سلیمان کی روایت کتاب الذبائح ، باب ۱۹ میں دیکھئے۔