صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 284 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 284

صحيح البخاری جلدم ۳۸۴ ٢٠ - كتاب الوكالة تشریح: وَكَالَةُ الشَّرِيكِ الشَّرِيكَ: امام ابن حجر کی رائے میں تمہیدی عنوان دو مختلف روایتوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ایک روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ اپنے احرام ہی میں رہیں اور انہیں اپنی قربانی میں شریک فرمایا۔اس روایت کا ذکر كتاب الشركة ( روایت نمبر ۲۵۰۶) میں آئے گا۔دوسری روایت خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے کہ آنحضرت علی نے فرمایا کہ وہ آپ کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور اُن کا سارا گوشت تقسیم کر دیں۔(دیکھئے کتاب الحج باب ۱۲۰ روایت نمبر ۱۷۱۶، باب ۱۲۱ روایت نمبر ۱۷۱۷) یہ روایت اس باب میں ( نمبر ۲۲۹۹ میں ) بھی مذکور ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۶۰۳) شرکاء کی وکالت سے یہ کتاب شروع کی گئی ہے۔پہلی روایت استنباط مسئلہ کے لئے ظاہر ہے۔اسی طرح حضرت على الله عقبہ بن عامر کی روایت کتاب الاضاحی میں بھی آئے گی۔اس کے یہ الفاظ ہیں: قَسَمَ النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا ( روایت نمبر ۵۵۴۷) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں قربانی کی بکریاں تقسیم کیں۔یعنی ہر ایک کے لئے تعداد معین کی اور حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو اپنی نیابت میں تقسیم کرنے کا ارشاد فرمایا۔چونکہ بکریوں میں ان کا حصہ بھی بنتا تھا گویا وہ شریک کی طرح تھے۔لیکن انہوں نے تقسیم کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قائمقامی کی۔پس اس روایت سے ثابت ہوا کہ شریک کی وکالت جائز ہے۔(فتح الباری جز به صفر ۴ ۶۰ ) ( عمدة القاری جز ۲۰ صفحه ۱۲۷) فَبَقِيَ عَتُوُدٌ : عَتُوُد کے معنی ہیں مَا رَعَى وَقَوِيَ وَأَتَى عَلَيْهِ حَول۔بکری کا یک سالہ بچہ جو چر کر مضبوط ہو گیا ہو۔وَقِيْلَ إِذَا قَدَرَ عَلَى السّفَادِ - اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو جفتی کے قابل ہو۔اس کی جمع أَعْتِدَة آتی ہے۔باب ۲ (عمدۃ القاری جز ۲ صفحه ۱۲۸) إِذَا وَكَّلَ الْمُسْلِمُ حَرْبِيَّا فِي دَارِ الْحَرْبِ أَوْ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ جَازَ اگر کوئی مسلمان کسی حربی (کافر) کو دار الحرب میں یا دارالاسلام میں وکیل کرے تو جائز ہوگا ٢٣٠١: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۲۳۰۱ عبد العزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي يُوْسُفُ بْنُ کہا: یوسف بن ماجشون نے مجھے بتایا۔انہوں نے الْمَاجِشُوْنِ عَنْ صَالِحٍ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيْهِ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عَنْ جَدِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ انہوں نے کہا: میں نے امیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ مکہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ میں (جو اس وقت دارالحرب تھا) میرے مال اور بال بچوں خَلَفٍ كِتَابًا بِأَنْ يُحْفَظَنِي فِي کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی