صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 285
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۸۵ ۴۰ - كتاب الوكالة صَاغِيَتِي بِمَكَّةَ وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ مدینہ میں حفاظت کروں گا۔ جب میں نے اپنا نام بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا ذَكَرْتُ الرَّحْمَنَ قَالَ عبد الرحمن لکھا تو (امیہ نے) کہا: میں عبدالرحمن کو نہیں جانتا۔ تم مجھے اپنا وہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا۔ اس پر لَا أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ كَاتِبْنِي بِاسْمِكَ میں نے اپنا نام عبد عمر و لکھا۔ جب وہ بدر کی جنگ میں الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَاتَبْتُهُ تھا تو میں ایک پہاڑ کی طرف جب لوگ سو چکے تھے عَبْدُ عَمْرٍو فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ نکل گیا؛ تا میں اس کی حفاظت کروں تو بلال نے اسے خَرَجْتُ إِلَى جَبَلٍ لِأُحْرِزَهُ حِيْنَ نَامَ کہیں دیکھ لیا۔ چنانچہ وہ گئے اور انصار کی ایک مجلس میں النَّاسُ فَأَبْصَرَهُ بِلَالٌ فَخَرَجَ حَتَّى کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ امیہ بن خلف ہے۔ وَقَفَ عَلَى مَجْلِسٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ ار بچ نکل تو میری خیر نہیں۔ اس پر بلال کے ساتھ کچھ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے۔ میں ڈرا کہ وہ ہمیں أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ لَا نَجَوْتُ إِنْ نَّجَا أُمَيَّةُ پالیں گے۔ اس لئے میں نے اس کے بیٹے کو اس کی فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ فِي خاطر پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑائی میں آثَارِنَا فَلَمَّا خَشِيْتُ أَنْ يَلْحَقُوْنَا مشغول ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کو مار ڈالا۔ خَلَّفْتُ لَهُمُ ابْنَهُ لِأَشْغَلَهُمْ فَقَتَلُوْهُ ثُمَّ انہوں نے میرا داؤ کارگر نہ ہونے دیا اور ہمارا پیچھا أَبَوْا حَتَّى يَتْبَعُوْنَا وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا کیا ۔ اُمیہ چونکہ بھاری بھر کم آدمی تھا (اس لئے جلدی فَلَمَّا أَدْرَكُوْنَا قُلْتُ لَهُ ابْرُكْ فَبَرَكَ اِدھر اُدھر نہ ہو سکا ۔ آخر جب انہوں نے ہمیں پالیا ؟ میں نے اسے کہا: بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے ☆ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لِأَمْنَعَهُ فَتَجَلَّلُوْهُ * آپ کو اُس پر ڈال دیا کہ اسے بچاؤں تو انہوں نے بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي حَتَّى قَتَلُوْهُ میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلواریں گھو نہیں ؟ وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ ان میں سے ایک نے اپنی وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ تلوار سے میرے پاؤں پر بھی زخم کر دیا۔ (ابراہیم نے يُرِيْنَا ذَلِكَ الْأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ۔ کہا: ) حضرت عبدالرحمن بن عوف ہمیں اپنے پاؤں کی پشت پر وہ نشان دکھایا کرتے تھے۔ { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ سَمِعَ يُوسُفُ [ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: یوسف نے صالح محمد عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ فَتَخَلَّلُوهُ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۲۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔