صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 279
صحيح البخاري - جلدم ۲۷۹ ٣٩- كتاب الكفالة قَدْ أُرِيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ رَأَيْتُ سَبْحَةً زمین دیکھی ہے جس میں کھجوریں ہیں اور وہ دو پتھریلی ذَاتَ نَخْلِ بَيْنَ لَا بَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ زمینوں کے درمیان ہے۔جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِيْنَ نے یہ ذکر کیا تو جس (مسلمان) نے ہجرت کرنی تھی، ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو حبشہ کے ملک وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ میں ہجرت کر گئے تھے ان میں سے بھی بعض مدینہ پہنچ كَانَ گئے اور حضرت ابو بکر نے بھی ہجرت کرنے کی تیاری هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَتَجَهَّزَ کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: أَبُو بَكْرِ مُهَاجِرًا فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ ذرا ٹھہریں۔کیونکہ میں امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكَ (ہجرت کی اجازت دی جائے گی۔تب حضرت ابو بکر فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي قَالَ أَبُو بَكْرٍ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ هَلْ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ بھی ہجرت کی ) امید رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى ہاں۔تب حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاطر رک گئے کہ آپ کے ساتھ ہی جائیں گے اور حضرت ابو بکر نے دو اونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں، لِيَصْحَبَهُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ۔چار مہینے تک بول کے پتے کھلائے ( تا کہ وہ ہجرت کے سفر کے لئے تیار ہو جائیں۔) اطرافه: ٤٧٦ ٢١٣٨، ٢٢٦٣، ٢٢٦٤، ۳۹۰٥، ٤۰۹۳، ٥٨٠، ٦٠٧٩۔تشریح : ، جوَارُ أَبِي بَكْرٍ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ الله وَعَقْدُهُ: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے کفالت کی ایک اور صورت کے بارے میں استنباط کیا گیا ہے۔ابن دغنہ قارہ قبیلے کا سردار تھا ، جس نے عام دستور کے مطابق ان کی پناہ کا اعلان کیا تھا اور یہ پناہ حضرت ابو بکر نے منظور کر لی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پناہ کا علم تھا۔کفالت بھی اسی قسم کی ایک ذمہ داری ہے، جسے پورا کیا جاتا ہے۔مذکورہ بالا واقعہ سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔لیکن آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی غیرت ایمانی یہ برداشت نہ کر سکی اور ابن دغتہ کے سمجھانے پر کہ اپنے گھر کی مسجد میں بلند آواز سے تلاوت نہ کیا کریں؛ اس سے لوگوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے؛ آپ نے اس کی پناہ واپس کر دی اور اللہ اور اس کے رسول کی پناہ پر بھروسہ کیا۔اس واقعہ میں جواز اور عدم جواز کی دونوں صورتیں موجود ہیں۔حالات کا جو تقاضا ہو اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔اسی لئے عنوان باب مصدر یہ رکھا گیا ہے۔