صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 275 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 275

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۷۵ ٣٩- كتاب الكفالة تشريح : مَنْ تَكَفَّلَ عَنْ مَّيِّتٍ دَيْنَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ: اس باب کے تعلق میں کتاب الحوالة باب ۳ کی تشریح بھی دیکھئے۔ دونوں ابواب کا مضمون ایک ہی ہے ، سوائے اس فرق کے کہ وہاں تفصیل ہے اور یہاں اجمال اور اجمال اور عنوان باب میں متورم متوفی کی کفالت ۔ کفالت سے عدم رجوع کا ذکر ہے اور یہ بات اس رو سے مستنبط ہے کہ حضرت قتادہ جب قرض کی ادائیگی کے کفیل ہو۔ ل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کفالت پر متوفی کی نماز جنازہ پڑھی تو وہ کفالت سے رجوع نہیں کر سکتے تھے۔ حسن بصری ، ابن ابی لیلی اور جمہور کا مذہب یہی ہے کہ کفالت سے عہدہ برآ ہونا لازمی ہے، خواہ متوفی کا ترکہ ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ کفیل اپنی مرضی سے ادائیگی کا ذمہ دار ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر متوفی کا ترکہ ثابت ہو تو کفیل رجوع کر سکتا ہے۔ امام مالک کے نزدیک از خود رجوع نہیں کر سکتا؛ بلکہ اسے قاضی کے پاس دعوی کرنا ہوگا اور وہ رجوع کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۱۹ ، ۱۲۰) جو ائمہ کفالت سے رجوع کے حق میں ہیں، ان کے نزدیک بیت المال قائم ہونے کے بعد متوفی کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری بیت المال پر عائد ہوتی ہے اور غیر شخص کی کفالت بقدر ترکہ ہی کے ہو سکتی ہے، جو متوفی کا کا ، ثابت ہو۔ ترکہ سے زائد بوجھ جھ کفیل پر نہیں ڈالا ۔ جاسکتا۔ (عمدۃ القاری شرح کتاب الحوالة باب ۳ ، جزء ۱۲ صفحہ ۱۱۳) اس تعلق میں باب ۵ کی تشریح بھی دیکھئے۔ مذکورہ بالا روایت میں جو صورت مذکور ہے، اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق فرمائی تھی کہ متوفی کا قرضہ ادا کرنے کے لئے اس کا کوئی ترکہ نہیں۔ ایسی کفالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا، جس کی ذمہ داری کفیل نے لی ہو ؛ ورنہ وہ کفالت حق ضائع کرنے کا سبب ہوگی۔ زیر باب جو روایتیں منقول ہیں، ان سے اور عنوانِ باب سے واضح ہوتا ہے کہ امام بخاری ۔ حسن بصری کی رائے کے مؤید ہیں کہ کفالت کے بعد رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تر کہ ثابت ہو تو اس سے قرض خواہ کو دلانا کفیل کی زمہ داری ہے۔ اگر تر کہ نہیں ہے تو وہ خود ادا کرے۔ بَاب ٤ : جِوَارُ أَبِي بَكْرٍ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَعَقْدُهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر کو پناہ دیا جانا اور اُن کا عہد کرنا ۲۲۹۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۲۲۹۷ : كی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ہمیں بتایا۔ عقیل سے مروی ہے کہ ابن شہاب نے کہا: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا ہوش سنبھالا ہے، میرے ماں باپ اسی دین پر تھے۔