صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 273 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 273

صحيح البخاري - جلدم ۲۷۳ ٣٩- كتاب الكفالة فَلَمَّا نَزَلَتْ وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ نَسَخَتُ : حضرت ابن عباس کی روایت مندرجہ باب ۲ سے ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ ہجرت کے دوران مہاجرین اور انصار مدینہ بھائی بھائی بنائے گئے تھے تو انہیں معاہدہ مواخات کی رو سے حق ورثہ بھی دیا جانے لگا یہ طریق بعد میں منسوخ ہوا۔یہ نہیں کہ ایک حصہ آیت نے دوسرے حصہ کو منسوخ کر دیا۔چنانچہ ابو جعفر نحاس کہتے ہیں: الَّذِى يَجِبُ أَنْ يُحْمَلَ عَلَيْهِ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسِ الْمَذْكُورِ فِي الْبَابِ أَنْ يَكُونَ وَلِكُلّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ نَاسِخًا لِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَهُ وَأَنْ يَكُونَ وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ غَيْرَ نَاسِحْ وَلَا مَنْسُوحٍ۔۔۔۔۔وَمِمَّنْ قَالَ أَنَّهَا مُحْكَمَةً مُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَبِهِ قَالَ أَبُو حَنِيْفَةَ وَقَالَ هَذَا الْحُكْمُ بَاقِ غَيْرُ مَنسُوخ (عمدة القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۱۸) یعنی حضرت ابن عباس کی روایت سے ظاہر ہے کہ آیت نے انصار اور مہاجرین کا طریق عمل منسوخ کیا ہے۔آیت کسی آیت کی نہ ناسخ ہے نہ منسوخ بلکہ آیات اپنی نصوص میں محکم ہیں۔اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت محکم ہے، ان میں سے مجاہد اور سعید بن جبیر بھی ہیں اور یہی بات امام ابو حنیفہ نے بھی کہی ہے۔اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ حکم باقی ہے اور منسوخ نہیں ہے۔امام بخاری کفالت کے باب میں اس حدیث کو اس غرض سے لائے ہیں تا یہ ثابت کریں کہ عہد و پیمان کی بناء پر اسلام میں ترکہ سے حصہ دے دیا جاتا تھا تو کفالت کرنے سے بھی مال کی ادائیگی کی ذمہ داری کفیل پر آ جائے گی۔کیونکہ یہ بھی ایک عہد ہوتا ہے جس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔بَاب ٣ : مَنْ تَكَفَّلَ عَنْ مَّيْتٍ دَيْنًا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ جو شخص کسی میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی کی ) ذمہ داری لے وہ اس سے پھر نہیں سکتا وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ۔اور حسن ( بصری ) کا بھی یہی مذہب ہے۔٢٢٩٥: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ۲۲۹۵: ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الى عبيد سے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيِّ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ جنازہ لایا گیا؛ تا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنِ آپ نے پوچھا: کیا اس پر کوئی قرضہ ہے؟ لوگوں نے قَالُوْا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ کہا: نہیں۔تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔پھر أُخْرَى فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنِ قَالُوْا اس کے بعد ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ نے پوچھا: