صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 272
صحيح البخاري - جلدم ۲۷۲ ٣٩- كتاب الكفالة ۲۲۹۳: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ :۲۲۹۳ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے، حمید نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَاخَی کہا: عبدالرحمن بن عوف ہمارے پاس ( مکہ سے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہجرت کر کے ) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرَّبيع۔بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِ نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان برادرانہ تعلق قائم کیا۔اطرافه: ۲۰٤٩، ۳۷۸۱ ، ۳۹۳۷، ۵۰۷۲، ٥١٤۸ ٥١٥٣، ٥١٥٥ ، ٥١٦٧، ٦٠٨٢، ١٦٣٨٦ ٢٢٩٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ :۲۲۹۴ محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا اسماعیل بن ذکریا نے ہمیں بتایا کہ عاصم نے ہم عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكِ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس اللهُ عَنْهُ أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کو یہ خبر پہنچی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں الْإِسْلَامِ فَقَالَ قَدْ خَالَفَ النَّبِيُّ ( جاہلیت کے ) عہد و پیمان نہیں۔تو انہوں نے کہا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ في صلى اللہ علیہ وسلم نے تو میرے گھر میں قریش اور رَضِيَ في وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي۔اطرافه: ٦٠٨٣، ٧٣٤٠۔انصار کے درمیان عہد و پیمان کرایا تھا۔تشريح وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَأَتَوْهُمْ نَصِيبَهُمْ : عنوانِ باب میں سورة النساء آیت ۳۴ کا حوالہ دیا گیا ہے۔جو یہ ہے: وَلِكُلّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْأَقْرَبُونَ ط ط وَالَّذِينَ عَقَدَتُ أَيْمَانُكُمْ فَاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ) (النساء: ۳۴) یعنی ہم نے ہر شخص کے لئے ترکہ میں وارث مقرر کر دیئے ہیں۔وہ وارث ماں باپ اور قریبی رشتہ دار ہیں اور وہ بھی جن کے ساتھ تم نے پکے عہد و پیمان کئے۔(یعنی بیویاں یا خاوند ) سو اُن کو بھی اُن کا مقررہ حصہ دو اور اللہ ہر ایک امر پر نگران ہے۔آیت کا مطلب واضح ہے۔