صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 262 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 262

صحيح البخاری جلد ۴ ۲۶۲ ۳۷- كتاب الإجارة تشريح : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَرْضًا فَمَاتَ أَحَدُهُمَا: آیا متاجر کی موت پر ھی ختم ہوجائے گا یا قائم رہے گا۔ اس مسئلے کے بارے میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ٹھیکہ اپنی شرطوں کے ساتھ قائم رہے گا اور فقہاء کوفہ کے نزدیک مسخ ہو جائے گا۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۵۸۳) عنوان باب میں مذکورہ حوالوں سے جمہور کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ ابن سیرین، حسن بصری ، حکم اور ایاس بن معاویہ کا فتویٰ ہے کہ مرنے والے کے ورثاء کو حق نہیں پہنچتا کہ ٹھیکیدار یا کرایہ دار کو زمین زیر کاشت یا مکان زیر سکونت سے علیحدہ کرے۔ جب تک کہ ٹھیکہ کی میعاد ختم نہ ہو جائے ، ورثاء شروط کے پابند ہیں۔ محولہ بالا فتوے ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کئے ہیں لیے اور حضرت ابن عمرؓ کا حوالہ اسی باب کی روایت نمبر ۲۲۸۵ میں مذکور ہے۔ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ : اس باب کے آخر میں، خر میں عبید اللہ کا حوالہ ہے ( زیر روایت نمبر ۲۲۸۶) وہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔ اس روایت کے یہ الفاظ ہیں : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ اَوْ زَرْعٍ کے یعنی عبید اللہ اللہ نے نے کہا: کہا: نافع نافع نے نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے نصف پیداوار پر پھل یا کھیتی کا معاملہ کیا۔ حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ : نافع ہی کی ایک اور روایت جو موسی بن عقبہ سے مروی ہے، اس کے آخر میں ہے : قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ اللهُ نُقِرُّكُمُ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيْحَاءَ۔ (بخارى، كتاب المزارعة، باب ۱۷، روایت نمبر ۲۳۳۸) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ہم تمہیں اس میں جب تک چاہیں اس (شرط) پر رہنے دیں گے۔ چنانچہ وہ وہاں رہے؛ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اربحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔ کریم وَأَنَّ رَافِعَ بُنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا حوالہ کتاب الحرث والمزارعة وایت نمبر ۲۳۴۴ میں دیکھئے ۔ اس حوالہ کا عطف نافع پر ہے۔ یعنی حضرت ابن عمرؓ نے نافع سے یہ ذکر بھی کیا کہ قابل کاشت زمینیں بٹائی پر دی جاتی تھیں اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ حضرت رافع بن خدیج نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی ٹھیکے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اس روایت میں لفظ حَدَّثَ کا مفعول محذوف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے كتاب الحرث والمزارعة، باب نمبر ۱۸۔ 0000000000 (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع، باب الرجل يؤجر داره سنين، جزء ۴ صفحه ۵۵۷) (مسلم، كتاب المساقاة، باب المساقاة والمعاملة بجزء من الثمر والزرع