صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 261
صحيح البخاری جلدم - ۲۶۱ ۳۷- كتاب الإجارة تُمْضَى الْإِجَارَةُ إِلَى أَجَلِهَا۔وَقَالَ میعاد تک رہنے دیا جائے گا۔اور حضرت (عبداللہ ) ابْنُ عُمَرَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ فَكَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ نصف حصہ بٹائی پر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حضرت ابوبکرؓ کے عہد اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی عہد وَصَدْرًا مِّنْ خِلَافَةِ عُمَرَ وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ خلافت میں یہی صورت قائم رہی لیکن یہ ذکر نہیں کہ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ جَدَّدَا الْإِجَارَةَ بَعْدَ مَا حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کی وفات کے بعد ٹھیکہ از سرنو کیا ہو۔:٢٢٨٥: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۲۸۵ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ نَّافِعِ جويريه بن اسماء نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَى ( بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اس شرط پر یہودیوں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ کو دیا تھا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کریں اور جو اس سے پیدا ہو، اُس کا آدھا اُن کے لئے ہوگا۔الْيَهُوْدَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوْهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا۔وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ اور حضرت ابن عمر نے (نافع سے ) بیان کیا کہ کاشت حَدَّثَهُ أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى کی زمینیں کچھ لگان مقرر کر کے دی جاتی تھیں۔نافع شَيْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُهُ۔نے اس لگان کی تعیین کی تھی لیکن مجھے یاد نہیں۔اطرافه: ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۱ ،۲۳۳۸، ۲٤۹۹، ۲۷۲۰، ٣١٥۲، ٤٢٤٨۔٢٢٨٦: وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ :۲۲۸۶: اور حضرت رافع بن خدیج نے بتایا کہ نبی أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى صلى اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو لگان پر دینے سے منع عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِع۔وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ فرمایا ہے۔اور عبید اللہ نے بھی نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے یہی روایت نقل کی۔(اور یہ الفاظ زائد بیان کئے ) یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ۔اطرافه ،۲۳۲۷، ۲۳۳۲، ٢٣٤٤، ٢٧٢٢۔