صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 260
صحيح البخاری جلدم ۲۶۰ ۳۷- كتاب الإجارة عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ بن حکم سے علی نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور کی جفتی کی کمائی سے منع عَسْبِ الفَحْل۔فرمایا ہے۔عَسُبُ الفَحْل : الفَحْل کے معنے ہیں نر جانور اور عشب کے معنے ہیں نسل کا تعلق _ أَعْسَبَهُ فَحْلَهُ تشریح وَاسْتَغْسَبَهُ۔یعنی اپنا نر جفتی کے لئے اُس کو دیا اور اُس سے جفتی کے لیے نر لیا۔ایک مسلمان کے لئے ایسا پیشہ اختیار کرنے کی ممانعت فرمائی کیونکہ یہ پیشہ معزز پیشہ نہیں اور ایک مسلمان کسب حلال کے لئے دیگر وسائل اختیار کر کے اس قسم کے ادنی پیشوں سے مستغنی رہ سکتا ہے۔گویا ممانعت تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔اگر نسل کشی کی قطعی ممانعت ہوتی تو اعلیٰ نسل منقطع ہو جاتی۔شوافع اور حنابلہ کے نزدیک مدت معینہ کے لئے کسی جانور کو اس غرض کے لئے دوسرے کو اُجرت پر دینا جائز ہے اور انہوں نے اس حدیث کی یہ تشریح کی ہے کہ یہاں ممانعت صرف اس غرض سے کی گئی ہے کہ اگر کسی کو جانور نسل کشی کے لئے غیر معین مدت کے لئے دے تو مدت غیر معینہ ہونے کی وجہ سے جھگڑے ہونے کا اندیشہ ہے۔اس لئے یہ اجارہ درست نہیں۔ہاں اگر مدت معین کرلی جائے تو معاہدہ درست ہوگا اور ایسا کرنا بھی درست ہوگا۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۸۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۱۰۶،۱۰۵) تر ندگی اور ابن حبان نے بعض مرفوع حدیثیں نقل کی ہیں، جن میں بلا اُجرت جفتی کرنے کرانے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ اسے ایک کار ثواب بھی قرار دیا ہے یا مشار الیہا روایات چونکہ امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں ؛ اس لئے نظر انداز کی گئی ہیں اور ممانعت کے بارے میں حضرت ابن عمر کی مذکورہ بالا مستند روایت سے استدلال کیا ہے کہ یہ ممنوع ہے۔بَاب ۲۲ : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَرْضًا فَمَاتَ أَحَدُهُمَا اگر کوئی شخص کسی سے زمین ٹھیکے پر لے اور پھر دونوں (معاہدہ کرنے والوں ) میں سے کوئی مرجائے ( تو کیا ٹھیکہ قائم رہے گا یا مسخ ہو جائے گا؟) وَقَالَ ابْنُ سِيْرِيْنَ لَيْسَ لِأَهْلِهِ أَنْ ابن سیرین کہتے ہیں: زمین والوں کا کوئی حق نہیں کہ يُخْرِجُوْهُ إِلَى تَمَامِ الْأَجَلِ۔وَقَالَ متاجر كو میعاد کے ختم ہونے سے پہلے نکالیں۔اور الْحَكَمُ وَالْحَسَنُ وَإِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حکم، حسن اور ایاس بن معاویہ نے کہا: ٹھیکہ اُس کی (ترمذی، کتاب البيوع، باب ما جاء في كراهية عسب الفحل) (ترمذی، کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل الخدمة في سبيل الله) ) صحيح ابن حبان، باب الخيل، ذكر إعطاء الله جل وعلا المطرق فرسه ه، جزء ۱۰ صفحه ۵۳۳)