صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 259
صحيح البخاری جلدم ۲۵۹ ۳۷- كتاب الإجارة طرفه: ٥٣٤٨ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا۔تشریح: كَسْبُ الْبَغِيِّ وَالْاِمَاءِ : مَهْرُ الْبَغِي اور كَسُبُ الْإِمَاءِ سے مراد زنا کے پیشے کی کمائی ہے۔آیت وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمُ۔۔۔۔( النور :۳۴) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے صرف مجاہد کا حوالہ دے کر آیت کے مفہوم کو محدود کر دیا گیا ہے۔محولہ تفسیر طبری نے نقل کی ہے۔عربی زبان میں فتاة کے معنی نوجوان لڑکی کے ہوتے ہیں۔لیکن روایت نمبر ۲۲۸۳ میں اس سے مراد لونڈی ہی لی گئی ہے۔زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ لونڈیوں سے پیشہ کروایا جاتا تھا۔اسلام نے اس کی اصلاح فرمائی۔پوری آیت یہ ہے : وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهُهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) (النور: ۳۴) تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لئے مجبور نہ کرو، اگر وہ نیک رہنا چاہتی ہوں؛ اس غرض سے کہ دنیوی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُن کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے۔یعنی ان لونڈیوں پر گرفت نہ ہوگی۔قرآنِ مجید میں جہاں یہ آیت آئی ہے وہاں سیاق و سباق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا یہ حصہ درحقیقت مکاتبت کے تعلق میں ہے۔اس سے پہلے یہ حکم دیا گیا ہے کہ لونڈی غلام اگر اپنی آزادی حاصل کرنے کی غرض سے تمہارے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہیں کہ اس قدر رقم اگر وہ اپنے مالک کو ادا کر دیں تو وہ آزاد ہو جائیں گے تو اُن کے ساتھ یہ سمجھوتہ کر لو اور اگر ذریعہ معاش پیدا کرنے کے لئے انہیں کچھ مالی امداد کی ضرورت ہو تو اس سے بھی دریغ نہ کرو تا وہ محنت مزدوری کر کے تمہیں مقررہ رقم ادا کر سکیں۔اس سیاق کلام میں آیت کا وہ حصہ وارد ہوا ہے جو لونڈیوں سے متعلق ہے۔إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا کے یہ معنی نہیں کہ اگر وہ زنا سے بچنا نہ چاہیں تو انہیں آزاد رہنے دو، جو چاہیں کریں بلکہ اس بارے میں الگ احکام دیئے گئے ہیں کہ اگر لونڈی زنا کرے تو اُسے سڑا دو اور اگر باز نہ آئے تو ایسی لونڈی گھر میں نہ رکھی جائے۔(دیکھئے کتاب البیوع باب نمبر ۶۶ و ۱۱۰ مع تشریح) در حقیقت حصہ آیت إِنْ أَرَدْنَ تَحَضُنا میں مردوں کی غیرت سے اپیل کی گئی ہے کہ جب لونڈیاں مکاتبت کر کے آزاد ہو کر عفت مآبی کی زندگی بسر کرنا چاہیں تو اُن کی مکاتبت میں روک ڈال کر اُن کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔یعنی جو عورت مشروط آزادی حاصل کر کے جبری نکاح سے بچنا چاہتی ہے اور مکمل آزادی کے بعد اپنی مرضی کے خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے، اُس کو اس ارادہ سے باز رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ بدکاری پر مجبور کرنا۔بَابِ ۲۱: عَسْبُ الْفَحْلِ نر جانور کی جفتی کی کمائی ( کے بارے میں ) ٢٢٨٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۲۸۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ اور اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے علی