صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 254 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 254

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۵۴ ۳۷- كتاب الإجارة وَأَعْطَى الْحَسَنُ دَرَاهِمَ عَشَرَةً : حسن بصری کا حوالہ طبقات ابن سعد میں مروی ہے کہ انہوں نے دس درہم معلم کو اُجرت دی جس نے اُن کے بھتیجے کو قرآن مجید پڑھایا تھا۔ ختم قرآن پر معلم نے اُجرت کی خواہش کی تو انہوں نے پہلے تو یہ جواب دیا کہ صحابہ کرام تعلیم قرآن پر اجرت نہیں لیا کرتے تھے۔ پھر بھتیجے کے اصرار پر دس درہم دیئے ۔ الطبقات الكبرى لابن سعد، جزءے صفحہ ۱۷۶،۱۷۵) معاوضہ وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ بِأَجْرِ الْقَسَّامِ بَأْسًا : محمد بن سیرین کا فتوی مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر شرط ٹھہرانے کے اگر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح ان کے نزدیک حصص تقسیم کرنے والے یا غلہ کا اندازہ کرنے والے کو بغیر شرط کے اُجرت دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۹۸) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۷۳) سب فقہاء کے نزدیک چھوٹے چھوٹے کاموں کا معاوضہ اگر بغیر مطالبہ ملے تو وہ لیا جا سکتا ہے، ورنہ مانگ کر اُس کا لینا مکروہ ہے۔ ایک ہی عنوان میں ان سب فتووں کا یکجا ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام کا تقویٰ دیکھا جائے۔ جنہوں نے مہمان نوازی کے حق کا مطالبہ دستور کے مطابق کیا ، جس کا انکار کیا گیا اور یہ انکار عرف عام میں سخت معیوب تھا۔ مگر مذہبی اختلاف کی وجہ سے انہیں مہمان نوازی کے حق سے محروم رکھا گیا۔ جب قبیلہ کا سردار ان کا محتاج ہوا تو انہوں نے بھی علاج کی اجرت لی لیکن اس اُجرت کے استعمال میں انہیں تردد ہوا اور اُس سے فائدہ نہیں اُٹھایا، تا وقتیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اس سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہ دی۔ تقویٰ کا یہ لطیف احساس جہاں تزکیہ نفس میں صحابہ کے علو مرتبت پر دال ہے؛ وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قدسی کی بھی شہادت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ۔ (الجمعة: ۳) کہ یہ رسول اپنے متبعین کا تزکیہ نفوس کرتا ہے۔ پس صحابہ کرام کا اجرت میں حاصل شدہ مال سے رکنا صحابہ کے پاک نفس ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔ وَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ۔۔۔۔۔ روایت نمبر ۲۲۷۷ کے آخر میں شعبہ کا حوالہ دیا ہے جو ترمذی نے موصولاً نقل کیا ہے۔ (ترمذی، کتاب الطب، باب ما جاء في أخذ الأجر على التعويذ) یہی روایت کتاب الطب ( نمبر ۵۷۳۶) میں مروی ہے مگر وہ روایت معنعن ہے۔ اس لئے آخر میں بطور تائید موصول سند کی طرف توجہ منعطف کی ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۷ ۵۷ ) بَاب ۱۷ : ضَرِيْبَةُ الْعَبْدِ وَتَعَاهُدُ ضَرَائِبِ الْإِمَاءِ لونڈی یا غلام پر لگان کے بارے میں اور لونڈیوں کی اُجرت پر نگرانی کے بارے میں (ارشاد ) ۲۲۷۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۲۲۷۷ : محمد ۔ ۲۲۷: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمید طویل سے، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ حَجَمَ مُحمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت