صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 255 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 255

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۵۵ ۳۷- كتاب الإجارة أَبُو طَيْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔ انہوں نے کہا: ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ لگائے اور آپ نے (اپنے کارندہ کو ) اسے ایک صاع یا وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفَ عَنْ غَلَتِهِ أَوْ دو صاع اناج دینے کے لئے فرمایا اور اُس کے مالکوں ضَرِيْبَتِهِ۔ سے آپ نے سفارش کی تو اُس کے غلہ میں یا (راوی نے کہا کہ ) اس کے لگان میں انہوں نے کمی کر دی۔ اطرافه: ۲۱۰۲، ۲۲۱۰، ٢۲۸۰، ٢٢٨١، ٠٥٦٩٦ تشريح : ضَرِيبَةُ الْعَبْدِ وَتَعَاهُدِ ضَرَآئِبِ الْإِمَاءِ : اس عنوانِ باب کے دو حصے ہیں اور ہیں اور جو روایت -------- استدلال کی غرض سے نقل کی گئی ہے، اس کا تعلق پہلے حصہ سے تو ظاہر ہے لیکن دوسرے حصہ عنوان سے اس کا تعلق ظاہر نہیں بلکہ بطور استدلال ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نافع ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کی باتوں سے معلوم ہوا کہ اُن کے مالک اُن سے لگان زیادہ وصول کرتے ہیں ۔ آپ نے کم کرنے کی سفارش فرمائی ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں تصریح ہے کہ آپ نے اُن سے پوچھا: كَم خَرَاجُگ یعنی تم سے کتنا خراج لیتے ہیں۔ جس پر آپ کو محسوس ہوا کہ یہ بار ان کی طاقت سے زیادہ ہے۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۸۰- شرح باب (۱۹) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ اس امر کی بھی نگرانی فرمایا کرتے تھے کہ غلاموں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ لونڈیاں بدرجہ اولی نگرانی اور ہمدردی کی مستحق ہیں۔ کیونکہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کا نتیجہ لازمی طور پر یہ ہوگا کہ لگان پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ چوری کریں گی یا بدکاری۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ دوسرے حصہ عنوان سے ابوداؤ د مالک الاحمری کی روایت کی طرف اشارہ جو امام موصوف نے کتاب التاریخ کے میں نقل کی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان جب مدائن میں آئے تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا : تَعَاهَدُوا ضَرَائِبَ إِمَائِكُم۔ یعنی اپنی لونڈیوں کے لگان کی نگرانی کیا کرو۔ اور ابوداؤد میں ایک روایت حضرت رافع بن خدیج سے مرفوعاً ان الفاظ میں منقول ہے : نَهَى رَسُولُ اللهِ اللهُ عَنْ كَسْبِ الْآمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ۔ ھو کے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے ہے، یعنی کسب حلال ہے یا حرام ۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۵۷۸) ہے (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع والأقضية، باب فى كسب الحجام، جز ۴ صفحه ۳۵۴) التاريخ الكبير للبخارى، باب مالک، جزء صفحہ ۳۰۸) (ابو داؤد، كتاب البيوع، باب في كسب الإماء)