صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 252 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 252

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۵۲ ۳۷- كتاب الإجارة لَأُرْقِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ ہم نے تم سے چاہا کہ تم ہمیں مہمان بناؤ اور تم نے ہمیں فَلَمْ تُضَيِّفُوْنَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى مِہمان نہ بنایا۔ پس میں بھی تمہارے لئے ہرگز دم نہ تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوْهُمْ عَلَى کروں گا جب تک کہ تم ہم سے معاوضہ نہ ٹھہرا لو۔ آخر انہوں نے ان کو چند بکریوں پر راضی کر لیا۔ اس پر وہ قَطِيعِ مِنَ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَنْفِلُ عَلَيْهِ اُس شخص پر دم کر کے تھوکنے لگا اور ( ساتھ ساتھ ) وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھتا جاتا، یہاں تک کہ فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي مریض ایسا اچھا ہو گیا کہ گویا اُس کی بندش دور ہو گئی اور وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ وہ چلنے لگا اور اس کو کوئی درد نہ رہا۔ راوی کہتے تھے: انہوں نے جس مزدوری پر راضی کیا تھا، انہوں نے وہ الَّذِي صَالَحُوْهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ پوری کی پوری دے دی۔ صحابہ میں سے کسی نے کہا: اقْسِمُوْا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لَا تَفْعَلُوْا (معاوضہ کو) تقسیم کر لو۔ جس نے دم کیا تھاوہ کہنے لگا: حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب تک ہم نبی ﷺ کے پاس واپس نہ پہنچ جائیں اور فَتَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَتَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا جو کچھ واقع ہوا وہ آپ سے بیان نہ کرلیں، معاوضہ فَقَدِمُوا عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى الله تقسیم نہیں کرنا چاہیے ۔ ( یہ مناسب مناسب ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں پہنچیں ) اور معلوم کر لیں کہ حضور اس صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوْا لَهُ فَقَالَ وَمَا بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ وہ رسول اللہ علی کے پاس يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ آئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے پوچھا تمہیں اقْسِمُوْا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا کیسے علم ہوا کہ وہ (سورۂ فاتحہ ) دم ہے؟ پھر فرمایا: تم فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اچھا کیا کہ معاوضہ لیا۔ اب اسے آپس میں بانٹ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ رکھ لو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ ابو عبد الله (امام بخاری ) أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ بِهَذَا۔ نے کہا: شعبہ نے یوں کہا: ابو بشر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا: میں نے ابو المتوکل سے یہی سنا ہے۔ اطرافه ٥٠٠٧، ٥٧٣٦، 5749 تشريح : مَا يُعْطَى فِي الرُّقْيَةِ عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ : امام ابوا : امام ابو حنیفہ وغیرہ نے آیات قرآن مجید کی برکت سے جہاں علاج معالجہ کرنے کی اجازت کا فتوی دیا ہے، وہاں تعلیم قرآن پر //////