صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 250
صحيح البخاری جلدم ۳۷- كتاب الإجارة لَمَيِّتْ ثُمَّ مَبْعُوثُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ کہا: دیکھ۔اللہ کی قسم ! تو مر کر بھی جی اُٹھے پھر بھی میں سَيَكُونُ لِي ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيْكَ ایسانہ کروں گا۔اس نے کہا: کیا سچ مچ میں مرکر پھر اُٹھایا جاؤں گا؟ میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: پھر تو وہاں بھی فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: أَفَرَءَيْتَ الَّذِى میرے لئے مال اور اولاد ہوگی۔پھر وہیں تیرا قرضہ آدا كَفَرَ بِايْتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا کروں گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار وَوَلَدَاة (المريم: ۷۸) کیا اور کہا کہ ضرور مجھے مال اور اولاد دی جائے گی۔اطرافه: ۲۰۹۱، ٢٤٢٥، ٤٧٣٢ ، ٤٧٣٣، ٤٧٣٤، ٤٧٣٥۔تشریح : هَل يُوا هَلْ يُواجِرُ الرَّجُلُ نَفْسَهُ مِنْ مُّشْرِك فِي أَرْضِ الْحَرْبِ : امام بخاری نے مسئلہ معنونہ بصورت استفتاء رکھ کر جواب حذف کر دیا ہے۔گویا ان کا مذہب یہ ہے کہ ضرور کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کے ساتھ کاروباری معاملہ کرنا جائز ہے۔فقہاء نے اس بارے میں دو شرطیں عائد کی ہیں کہ (1) کاروبار ایسا ہو جو مسلمان کے لئے کرنا جائز ہو۔وہ مسلمانوں کے لئے نقصان رساں نہ ہو۔(فتح الباری جز به صفحه ا۵۷) حضرت خباب رضی اللہ عنہ مکہ میں لوہارے کا کام کرتے تھے اور مسلمان ہونے کے باوجود انہوں نے عاص بن وائل کا کام کیا جو مسلمانوں کا دشمن اور مذہبا مشرک تھا۔یہ روایت کتاب البیوع، باب ۲۹ میں گزر چکی ہے اور كتاب التفسير، سورة كهيعص (سورۃ مریم ) میں بھی آئے گی۔باب ١٦ : مَا يُعْطَى فِي الرُّقْيَةِ عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عربوں کے قبیلوں پر سورہ فاتحہ کے دم کرنے کے عوض ان کی طرف سے جو کچھ پیش کیا جائے (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کرتے ہوئے کہا: جن کاموں پر تم اجرت لیتے ہو، ان كِتَابُ اللهِ۔وَقَالَ الشَّعْبِيُّ لَا يَشْتَرِطُ سب سے اجرت لینے کے زیادہ لائق اللہ ہی کی کتاب ہے۔اور شعمی نے کہا: ( قرآن مجید ) سکھانے والا الْمُعَلّمُ إِلَّا أَنْ يُعْطَى شَيْئًا فَلْيَقْبَلْهُ۔(معاوضہ کی ) شرط نہ کرے، ہاں اگر اسے ( متعلم کی وَقَالَ الْحَكَمُ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا كَرِهَ طرف سے) کچھ پیش کر دیا جائے تو قبول کرلے۔