صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 246 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 246

صحيح البخاري - جلدم ۲۴۶ 5-۳۷ ، الإجارة الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوْا يَمْشُوْنَ۔اطرافه: ٢٢١٥، ٢٣٣٣، ٣٤٦٥، ٥٩٧٤۔سے دور کر۔اس پر وہ پتھر (ان سے اور بھی ) ہٹ گیا؟ یہاں تک کہ وہ نکل کر چلے گئے۔تشریح : فَعَمِلَ فِيْهِ الْمُسْتَأْجِرُ فَزَادَ أَوْ مَنْ عَمِلَ فِي مَالِ غَيْرِهِ فَاسْتَفْضَلَ: عنوان باب کے پہلے حصے میں مستاجر ( مزدوری پر کام لینے والے) کا ذکر ہے جو خاص ہے اور دوسرے حصے میں اس کا معطوف عام ہے۔یعنی ہر وہ شخص جو کسی کا مال بغرض افزائش دولت لگائے ، دونوں اس کارِ خیر پر ثواب کے مستحق ہوں گے اور اللہ تعالی مشکلات میں اُن کی مدد کرے گا اور اُن کی دعائیں قبول ہوں گی۔اس کے برعکس مزدوری نہ دینے والا مستوجب سزا ہے اور ایسے شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی۔اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۹۸ روایت نمبر ۲۲۱۵ بھی دیکھئے۔باب ۱۳ مَنْ آجَرَ نَفْسَهُ لِيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ وَأَجْرُ الْحَمَّالِ جو شخص اپنے آپ کو مزدوری کے لئے پیش کرے کہ وہ اپنی پیٹھ پر ( سامان ) اُٹھا کر لے جائے گا پھر اپنی مزدوری سے صدقہ دے اور جمال کی اجرت (کے بارے میں حکم ) ۲۲۷۳ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى :۲۲۷۳: سعید بن یحی بن سعید قریشی نے مجھے بتایا کہ ابْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔اعمش نے ہمیں الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيْقِ عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ بتایا۔انہوں نے شقیق سے شقیق نے حضرت ابو مسعود الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى دیتے تو ہم میں سے ایک بازار جاتا اور وہ مزدوری کرتا اور اس طرح ایک مد ( اناج ) کماتا ( جس سے وہ صدقہ السُّوْقِ فَيُحَامِلُ فَيُصِيْبُ الْمُدَّ وَإِنَّ کرتا) اور اب ان میں سے بعضوں کے پاس ایک لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ أَلْفِ قَالَ مَا نَرَاهُ ایک لاکھ درہم ) موجود ہیں۔(شقیق نے ) کہا : ہم سمجھتے ہیں کہ (حضرت ابو مسعود نے ) اپنا ہی ذکر کیا تھا۔إِلَّا نَفْسَهُ۔اطرافه ١٤١٥، ١٤١٦ ، ٤٦٦٨، ٠٤٦٦٩