صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 240 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 240

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۴۰ ۳۷- كتاب الإجارة عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عبد اللہ بن عمرؓ کے غلام عبداللہ بن دینار سے روایت عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَالْيَهُودُ فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال اس شخص کی وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا ہے جس نے مزدور لگائے اور کہا کہ میرے لئے ایک فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ قيراط پر نصف النہار تک کون کام کرے گا؟ تو یہود عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ عَلَی نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر نصاری نے بھی قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ عَمِلَتِ النَّصَارَی ایک ایک قیراط پر (عصر کی نماز تک ) کام کیا۔ اس عَلَى قِيْرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ کے بعد تم و کے بعد تم وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے سورج ے سورج ڈوبنے تَعْمَلُوْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ تک دو دو قیراط پر کام کر رہے ہو۔ اس پر یہود اور الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ نصاری ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: ہم نے کام تو فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوْا زیادہ کیا اور اُجرت کم ملی ۔ تب اس شخص نے کہا: کیا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً قَالَ هَلْ میں نے تمہارے حق میں سے کچھ گھٹایا ہے؟ کہنے لگے: ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ نہیں ۔ (اس پر ) اس نے کہا: یہ میرا انعام ہے جسے فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ۔ چاہتا ہوں دیتا ہوں ۔ اطرافه ٥٥٧، ٢٢٦٨، ٣٤٥٩، ٥٠٢١، 7467، 7533۔ -------- تشريح : الْإِجَارَةُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ : دونوں ابواب (نمبر ۹۸) میں حضرت عبداله بن عمر رضیاللہعنہا کی روایت درج کر کے میعاد عمل اور معاوضہ کے بارہ میں توجہ اس امر کی طرف منعطف کی گئی ہے کہ کام کا وقت دن کا ایک حصہ بھی ہو سکتا ہے اور چند گھنٹے بھی۔ اُجرت کی تعیین صرف وقت کی بناء پر نہیں ہوتی بلکہ اجرت کی تعیین میں جہاں وقت دیکھا جاتا ہے وہاں نوعیت اور مقدار عمل بھی مد نظر رکھی جاسکتی ہے۔ محولہ بالا روایت کتاب مواقيت الصلاة، باب ۱۷، روایت نمبر ۷ ۵۵ میں بھی گزر چکی ہے۔ یہ دو باب سابقہ ابواب سے مل کر اجارہ کی صورت مکمل طور پر پیش کرتے ہیں کہ کسی کو کام پر لگاتے ہوئے وقت، نوعیت عمل، مقدار عمل اور مقدار اُجرت چاروں باتیں اگر ملحوظ ہوں تو معاہدہ اجارہ صحیح ہوگا۔