صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 237 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 237

صحيح البخاري - جلدم ۲۳۷ ۳۷- كتاب الإجارة تشریح : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا فَبَيَّنَ لَهُ الْأَجَلَ وَلَمْ يُبَينِ الْعَمَلَ : اس باب کے تحت امام بخاری نے کوئی حدیث پیش نہیں کی بلکہ صرف آیت پیش کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔شارحین نے اس سے استدلال کیا ہے کہ امام بخاری کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کام پر لگائے اور کام کی تفصیلات بیان نہ کرے تو یہ جائز ہے۔اس پر بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ در حقیقت کام پر لگانے والوں اور حضرت موسیٰ دونوں کو ذہنی لحاظ سے معلوم تھا کہ گھر کا کام کاج ہی مراد ہے، اس لئے تفصیلات کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔اس لیے کام حقیقتاً نا معلوم نہیں تھا۔اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ امام بخاری کا منشاء صرف یہ ہے کہ اگر الفاظ میں اچھی طرح کھول کر کام کو بیان نہ کیا جائے اور کام ط کرانے والا اور کام کرنے والا دونوں سمجھ رہے ہوں تو یہ صورت جائز ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۵۶۲۵۶) امام بخاری نے قرآنِ مجید کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے: قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأجُرَنِى ثَمَنِى حِجَجٍ ، فَإِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ، وَمَا أُرِيدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَيْكَط سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّلِحِيْنَ O قَالَ ذلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ه (القصص: ۲۹،۲۸) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین پہنچ کر جس شخص کے گھر میں قیام کیا ، اس نے کہا: اے موسیٰ ! میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں، اس شرط پر کہ تو آٹھ سال تک میری خدمت کرے۔پس اگر تو آٹھ سال کی جگہ دس سال خدمت کر کے اپنا وعدہ پورا کر دے تو یہ تیری مرضی ہے اور میں تجھ پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا اور اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے نیک معاملہ کرنے والوں میں سے پائے گا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ بات میرے اور تیرے درمیان پختہ ہو گئی۔ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں مجھ پر کوئی الزام نہیں ہوگا اور جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس کا ضامن ہے۔آجَرَكَ اللهُ : امام بخاری نے آیت کے بعد لفظ آجر کا لغوی مفہوم بنا کر پھر محاورہ زبان بیان کر کے یہ سمجھایا ہے کہ الفاظ عَلَى أَنْ تَأجُرَنِی سے ظاہر ہے کہ جس عمل کا معاوضہ دیا جانا تھا وہ فریقین کے ذہنوں میں موجود تھا، جیسا کہ لفظ تعزیت کے مفہوم کا تعلق تعزیت والوں اور تعزیت کرنے والوں دونوں کے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔بَابِ ٧ : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا عَلَى أَنْ يُقِيْمَ حَائِطًا يُرِيْدُ أَنْ يَنْقَضَّ جَازَ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو اس لئے مقرر کرے کہ وہ ایسی دیوار درست کر دے جو گرنے کو ہو تو یہ جائز ہے ٢٢٦٧ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۲۲۶۷: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے انہیں خبر دی، ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي کہا کہ یعلی بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر