صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 238
صحيح البخاری جلدم ۲۳۸ ۳۷- كتاب الإجارة يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ان میں سے ایک عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرِ يَزِيْدُ أَحَدُهُمَا اپنے ساتھی سے کچھ بڑھ کر بیان کرتا تھا۔ابن جریج نے عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ یہ حدیث اوروں سے بھی سنی ہے۔انہوں نے کہا: میں نے انہیں بھی سعید بن جبیر) سے ہی نقل کرتے سنا ہے۔يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنِي انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سے بیان کیا کہ حضرت ابی بن کعب نے مجھے بتایا۔أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تفسیر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَانْطَلَقَا۔۔۔کی خاطر یہ آیت پڑھی: وہ دونوں چل پڑے اور فَوَجَدَا۔۔۔جِدَارًا يُرِيدُ اَن انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔سعید نے يَنْقَضَ۔قَالَ سَعِيْدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَ رَفَعَ کہا کہ (حضرت موسیٰ کے ساتھی نے ) اپنے ہاتھ سے يَدَهُ * فَاسْتَقَامَ قَالَ يَعْلَى حَسِبْتُ اشارہ کیا۔پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور دیوار کو درست کیا ) تو وہ ٹھیک ہوگئی۔یعلی نے کہا: میں سمجھتا سَعِيْدًا قَالَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ، ہوں کہ سعید نے یہ بھی کہا تھا کہ (حضرت موسیٰ کے لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًاO ساتھی نے ) اس ( دیوار ) کو اپنے ہاتھوں سے درست (الكهف: ۷۸) قَالَ سَعِيْدٌ أَجْرٌ نَّأْكُلُهُ۔کیا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔(حضرت موسیٰ نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس کام پر مزدوری لے لیتے۔سعید نے کہا: ایسی اُجرت جس سے ہم کھاتے۔اطرافه ۷٤، ۷۸، ۱۲۲ ، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ۳۶۰۰ ، ٣٤۰۱، ٤٧٢٥ ، ٤٧٢٦ ، ٤٧٢٧ ، ٧٤٧٨،٦٦٧٢، تشریح : إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا عَلَى أَنْ يُقِيمَ حَائِطا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَ جَازَ : حضرت إِلى بن كعب کی روایت کا ایک حصہ اس باب میں نقل کیا گیا ہے جو بخاری ، کتاب التفسير، سورة الكهف، باب روایت نمبر ۲۷۲۵ میں مفصل بیان ہوا ہے۔سورہ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک مکاشفہ کا ذکر ہے۔جس کی تشریح کیلئے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تفسیر سورۃ الکہف ، جلد چہارم صفحہ ۴۶۵ تا ۴۹۰۔امام بخاری یہ باب اس لئے لائے ہیں کہ کسی کو کام پر لگاتے ہوئے جہاں مدت کی تعیین ضروری ہے وہاں کام کا ذکر کرنا بھی بہتر ہے تا کہ بعد میں جھگڑے کی کوئی صورت نہ پیش آئے۔حمد عمدۃ القاری میں اس جگہ وَرَفَعَ يَدَيْهِ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۸۷)