صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 231
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۳۱ ۳۷- كتاب الإجارة تشریح : رَعْيُ الْغَنَمِ عَلَى قَرَارِيطَ : دوسرے باب میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا سود حسن پیش کیا گیا nnnnn ہے کہ معمولی سے معاوضہ پر آپ نے گلہ بانی کی خدمت سر انجام دی۔ قراريط، قیراط کی جمع ہے۔ ایک قیراط چار رتی چاندی کے وزن کے برابر ہوتا ہے۔ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ : حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بکریاں چرانے کا ذکر سورہ طہ میں وارد ہوا ہے ۔ فرماتے ہیں: اَهُشُ بِهَا عَلَى غَنَمِی۔ (طہ: ۱۹) یعنی میں اپنے سونٹے سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور تو رات کی کتاب خروج باب ۳ میں لکھا ہے :- اور موسیٰ اپنے خسر مترو کی جو مدیان کا کاہن تھا، بھیڑ بکریاں چراتا تھا۔ ( خروج باب ۳، آیت ۱) اسی واقعہ کی طرف سورہ طلاء کی مذکورہ بالا آیت میں اشارہ ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی بابت سموئیل باب ۱۶ میں یہ الفاظ ہیں :- وو پھر سموئیل نے یسی سے پوچھا کیا تیرے سب لڑکے یہی ہیں۔ اس نے کہا: سب سے چھوٹا ابھی رہ گیا۔ وہ بھیڑ بکریاں چراتا ہے۔ سموئیل نے یسی سے کہا: اسے بلا بھیج کیونکہ جب تک وہ یہاں نہ آجائے ، ہم نہیں بیٹھیں گے۔ سو وہ اسے بلوا کر اندر لایا (۱- سموئیل باب ۱۶، آیت ۱۱ تا ۱۳) پیدائش بابے میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں چرند پرند سوار کرنے اور باب ۱۲ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ایام ہجرت میں بھیڑ بکریوں وغیرہ کے بکثرت ہونے کا ذکر بھی پایا جاتا ہے۔ عہد نامہ قدیم کے صحیفے (سلاطین، تواریخ وغیرہ) پڑھنے سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اسرائیلی قبائل کا گزران بیشتر بھیڑ بکریوں وغیرہ پر تھا اور اُن کے ہاں گلہ بانی کا عام رواج تھا۔ ہاں گلہ بانی کا عام رواج تھا۔ بچپن ہی سے جانوروں کو ہانک کر چرا گا ہوں اور چشموں پر لے جاتے اور اُن میں سے جو انبیاء اور صلحاء ہوئے ہیں وہ اس زمانے میں اپنے گلوں کے ساتھ بسر اوقات کیا کرتے تھے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد کی تصدیق تاریخ سے ہوتی ہے۔ ابتدائی زمانے یعنی کھیتی باڑی کرنے سے قبل بھیڑ بکری وغیرہ جانوروں پر انسان کا گزارہ ہوا کرتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان میں کسی دوسری تاویل کی ضرورت نہیں بلکہ تاریخ بشری میں یہ امر بطور امر واقعہ مسلم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں اُن لوگوں کے لئے سبق ہے جو مزدوری پر کام کرنا حقیر سمجھ کر اس سے گریز کرتے اور بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ گدا گری جو ایک ذلیل ترین پیشہ ہے، اسے اختیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تباہی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ وہ محنت مزدوری سے جی چراتے ہیں۔