صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 230
صحيح البخاری جلدم ۳۷- كتاب الإجارة حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود ملازمت کی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ کام پر لگانے والوں نے آپ کی قوت اور دیانت سے متاثر ہو کر خود ہی آپ کو کام پر لگا لیا۔اس واقعہ سے حضرت امام بخاری نے اجیر کے اوصاف مستنبط کر کے عنوان باب میں نمایاں کئے ہیں کہ کام پر مقرر کرتے ہوئے ایسے شخص کو انتخاب کیا جائے جو مضبوط جسم ہو، صالح اور دیانت دار ہوں، ملازمت کا طالب نہ ہو بلکہ دوسروں کو بوجہ قابلیت اس کی ضرورت محسوس ہو۔وَمَنْ لَّمْ يَسْتَعْمِلُ مَنْ اَرَادَهُ: یہ بھی ایک حدیث ہی سے اخذ کردہ ہے۔اس کے لیے روایت نمبر ۲۲۶۱ نیز کتاب الاحکام باب سے مع تشریح دیکھئے۔اس حوالہ سے بھی اجیر ( مزدور ) کے اوصاف میں سے ایک اعلیٰ وصف یعنی اس کی قابلیت اور بے نفسی کی صفت محمودہ کی طرف اشارہ ہے۔لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَهُ : ہم ایسے لوگوں کو کام پر نہیں لگاتے جو اس کی خواہش رکھتے ہوں۔اس سے مراد عام کام نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے۔جیسا کہ کتاب الاحکام میں اسی روایت کو دہراتے ہوئے امام بخاری نے مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْإِمَارَةِ (باب) کا عنوان باندھ کر اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔الغرض پہلے باب میں قرآنِ مجید کی آیت اور احادیث کے حوالے دے کر اُن صفات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو کسی کو کام پر لگاتے ہوئے مد نظر رکھنی چاہئیں۔یعنی جسمانی قوت ، ذہنی صلاحیت، دیانت، شوق عمل، انشراح صدر اور بے نفسی۔بَابِ ۲ : رَعْيُ الْغَنَمِ عَلَى قَرَارِيْطَ چند قیراط کے بدلے بکریاں چرانا ٢٢٦٢ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۲۶۲ احمد بن محمد مکی نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ بن کچی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے دادا (سعید جَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بن عمرو) سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ فَقَالَ عن أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ فَقَالَ نَعَمْ محنت جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا آپ نے بھی (چرائی أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيْطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ۔ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں بھی چند قیراطوں کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔