صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 229 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 229

صحيح البخاری جلدم ۲۲۹ ۳۷- كتاب الإجارة ٢٢٦١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۲۶۱ مرد نے ہم سے بیان کیا کہ یحیی بن سعید يَحْيَى عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي قطان) نے قرہ بن خالد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ بتایا، کہا: مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا کہ ہم سے أَبِي مُؤْسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْتُ ابو بردہ نے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رینه سے، انہوں نے کہا: میں (یمن سے ) نبی اے کے پاس إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعر قبیلے کے شخص تھے۔(جو وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّيْنَ فَقُلْتُ کسی خدمت کے طلبگار تھے۔انہوں نے آنحضرت سے مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ اس کی درخواست کی۔میں نے عرض کیا: مجھے علم نہیں تھا فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا کہ یہ دونوں کام کی خواہش رکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا: ہم ایسے لوگوں کو اپنے کام پر نہیں لگاتے جو اس کی خواہش رکھتے ہوں۔( راوی کہتا ہے کہ نبی ﷺ نے کلام کرتے مَنْ أَرَادَهُ۔ہوئے ) لَنْ نَسْتَعْمِل فرمایا یا لَا نَسْتَعْمِلُ فرمایا۔اطرافه ٣٠٣٨، ٤٣٤١ ، ٤٣٤٣، ٤٣٤٤، ٦١٢٤، ٦٩٢٣، 7149، 7156، 7157، ٧١٧٢۔: تشريح : اسْتِجَارُ الرُّجُلِ الصَّالِح: اجازات، اجارہ کی جمع ہے اور اجارہ ا معاوضہ کو کہتے یں جو کسی کو کام کے بدلہ میں دیا جاتا ہے۔اسی طرح اجارہ معاوضہ دے کر کام کرانے کو بھی کہتے ہیں۔(لسان العرب - أجر ) (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۷۷ ) عنوان باب میں قرآنِ مجید کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورہ قصص کی ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بیان ہے کہ جب آپ مصر سے ہجرت کرکے مدین پہنچے تو آپ نے شہر کے چشمہ کے پاس لوگوں کا ایک گروہ دیکھا جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے اور ان سے پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوئی دو عورتیں دیکھیں جو اپنے جانوروں کو ہجوم سے پرے بنارہی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: تم دونوں کیوں پانی نہیں پلاتیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے۔وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا۔ہم اس وقت تک جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک کہ دوسرے لوگ فارغ ہو کر نہ چلے جائیں۔اس بات کا علم پا کر حضرت موسیٰ نے لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔لڑکیاں جب گھر واپس گئیں تو انہوں نے اپنے والد سے اس سارے واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ موسیٰ کو ملازم رکھ لیں کیونکہ آپ جن کو ملازم رکھیں گے، ان میں سے بہتر وہی شخص ہو سکتا ہے جو مضبوط بھی ہو اور امانت دار بھی۔اور حضرت موسیٰ میں دونوں اوصاف پائے جاتے ہیں۔اس پر حضرت موسیٰ کو بلایا گیا اور اُن سے کام کے متعلق معاہدہ ہو گیا۔بعد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کے ساتھ شادی ہو گئی۔