صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 227 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 227

صحيح البخاری جلدم ۲۲۷ ٣٦ - كتاب الشفعة بَابِ : أَيُّ الْجِوَارِ أَقْرَبُ کونسا ہمسایہ زیادہ قریب ہے؟ ٢٢٥٩ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ۲۲۵۹ : حجاج ( بن منہال ) نے ہم سے بیان کیا کہ شُعْبَةُ ح۔وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔اس کی دوسری سند یوں ہے کہ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا على بن عبداللہ نے بھی ہم سے بیان کیا کہ شبابہ نے ہمیں بتایا (اور کہا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا) کہ ابو عمران نے ہمیں بتایا، کہا کہ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا طلحہ بن عبد اللہ سے میں نے سنا۔انہوں نے حضرت قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے کہا: أَبُو عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ فَإِلَى أَيْهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى أَقْرَبِهِمَا يا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں۔ان دونوں میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہے۔منك بَابًا۔اطرافه: ٢٥٩٥، ٦٠٢٠۔تشریح : اَيُّ الْجِوَارِ اَقْرَبُ : حق شفعہ میں قرب و بعد کا محوظ رکھنا ضروری ہے۔جس کی تصریح زیر باب میں ہے۔كتاب البيوع باب ۹۷ کے عنوان میں لفظ مُشَاعا سے وہ اشیاء مراد ہیں جو مشترکہ استعمال میں ہوں۔مثلا راستہ جو گھروں کے درمیان سے گزرتا ہو یا کنواں جس سے گھروں کے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہوں۔اکثر فقہاء کے نزدیک ایسی اشیاء میں شفعہ نہیں۔یعنی وہ فروخت نہیں کی جاسکتیں۔اس تعلق میں دیکھئے تشریح کتاب البیوع باب ۹۷۔اگر کوئی شخص اپنے مالکانہ حقوق کی وجہ سے ایسی شئے کو فروخت کرنا چاہے تو مشتر کہ فائدہ اُٹھانے والے اُس کے پہلے حق دار ہوں گے۔فقہاء کی اصطلاح میں ایسے حق کو شفعہ خلطت کہتے ہیں۔لفظ شرکت یا اشتراک میں ملکیت کا مفہوم پایا جاتا ہے مگر خلطت میں نہیں لفظ خلطت سے لفظ اختلاط ہے۔جس کے معنی ہیں آپس میں ملنا۔