صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 225 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 225

صحيح البخاری جلدم ۲۲۵ ٣٦ - كتاب الشفعة فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ حضرت مسور بن مخرمہ آئے اور میرے ایک کندھے پر عَلَى إِحْدَى مَنْكِبَيَّ إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعِ انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا۔اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع آئے اور کہنے لگے: سعد! مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ میرے دو گھر جو آپ کی حویلی میں ہیں، خرید لیں حضرت يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتَيَّ فِي دَارِكَ فَقَالَ سعد نے کہا: بخدا میں انہیں نہیں خریدوں گا۔حضرت سَعْدٌ وَاللَّهِ مَا أَبْتَاعُهُمَا فَقَالَ الْمِسْوَرُ مور نے کہا: بخدا آپ نے ضرور انہیں خریدنا ہوگا۔تو وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ حضرت سعد نے کہا: بخدا میں آپ کو چار ہزار درہم) سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسط وار۔راوی کہتا لَا أَزِيْدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةً أَوْ ہے کہ انہوں نے لفظ) مُنَجَّمَةٌ بولا تھایا مُقَطَّعَةٌ - مُقَطَّعَةً قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَقَدْ أُعْطِيْتُ بِهَا ابورافع نے کہا: مجھے تو اس کی قیمت پانچ سو دینارا ملتی خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ تھی۔اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سُنا ہوتا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْجَارُ جو آپ فرماتے تھے: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا أَعْطَيْتُكَهَا بِأَرْبَعَةِ زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو چار ہزار ( درہم ) پر نہ دیتا۔کیونکہ مجھے تو اس کے پانچ سو دینار مل رہے تھے۔( مگر آب میں آپ کو دیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے حضرت سعد کو وہ گھر دے دیے۔آلَافٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ۔اطرافه: ٦٩٧٧، ٦٩٧٨، ۱۹۸۰، ۲۹۸۱ تشریح : عَرْضُ الشُّفْعَةِ عَلَى صَاحِبِهَا قَبْلَ الْبَبيع : اس باب کا تعلق ایسے شفیع سے ہے، جسے ہمسائیگی کی وجہ سے حق شفعہ حاصل ہو۔اگر پڑوسی زیر فروخت جائیداد خرید نانہ چاہے تو غیر پڑوسی کو بیچی جاسکتی ہے۔اطلاع دینے کے بعد حق شفعہ ساقط ہو جاتا ہے۔اسی طرح لاعلمی میں فروخت ہونے کے بعد شفیع کو اگر علم ہو جائے تو حق شفعہ کی رو سے فروخت شدہ جائیداد کا اسی قیمت پر شفیع مستحق ہوگا، بشرطیکہ قیمت نقد ادا کی جائے۔بصورت عدم قدرت ادائیگی حق شفعہ ساقط ہوگا۔عنوان باب میں ابومحد حکم بن عتیبہ اور شعمی س کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے، وہ ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کیا ہے۔ے اس دور میں ایک دینار دس درہم کے برابر تھا۔(فتح الباری شرح کتاب العتق باب ۲ روایت نمبر ۲۵۱۷، جزء ۵ صفحه ۱۸۳) (مصنف ابن ابی شیبه کتاب البیوع والاقضية، باب في الشفيع يأذن للمشترى، جزء ۲ صفح۵۲۲) (مصنف ابن ابی شیبه کتاب البیوع والاقضية، باب فى الدار تباع ولها جاران، جز ۴ صفحه (۵۲) منا