صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 223
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲۳ ٣٦ - كتاب الشفعة بَاب ١ : الشُّفْعَةُ فِيْمَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَةَ شفعہ اسی (جائیداد) کا ہے جس کی تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدیں پڑ جائیں تو شفعہ نہ ہوگا ٢٢٥٧ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۲۵۷: مسدد ( بن مسرہد ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَن الزُّهْرِيّ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔(عبد الواحد نے کہا ) کہ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ معمر نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے، ڈہری جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اُس (مال) میں بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ۔جو تقسیم نہ کیا گیا ہو، شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔مگر جب تقسیم ہوگئی اور ) حدیں پڑ گئیں اور راستے الگ الگ نکال دیئے گئے تو پھر شفعہ نہیں۔اطرافه ۲۲۱۳، ۲۲۱٤، ٢٤۹۰، ٢٤٩٦، ٦٩٧٦۔تشريح : الشُّفَعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ: بي باب شده شرکت سے متعلق ہے۔یعنی جب تک مشتر کہ جائداد تقسیم ہو کر اس کی حدود، اس میں آنے جانے کے راستے متعین نہ ہو جائیں تو اگر حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے تو دوسرے حصہ دار کو بوجہ شرکت شفعہ کا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ خریدے۔لیکن جب جائیداد تقسیم ہو جائے اور اس کی حد قائم ہو کر ہر شریک کا حصہ جائیداد الگ ہو جائے اور اس کے آنے جانے کا راستہ بھی مقرر ہو کر شرکت کی صورت قائم نہ رہے تو پھر حق شفیع بوجہ شرکت قائم نہ رہے گا۔یہ مفہوم ہے عنوانِ باب کا۔حدیث نمبر ۷ ۲۲۵ سے حق شفعہ کی صحت کے لئے مندرجہ ذیل شرطیں مستنبط ہوتی ہیں :- (۱) مشتر کہ جائیداد میں جو قابل تقسیم ہو ، شفعہ کا حق اس وقت ہوگا جب کوئی شریک اسے فروخت کرنا چاہے تو اس کو لینے کا پہلا حقدار اس کا شریک ہوگا۔ناقابل تقسیم جائیداد میں حق شفعہ نہیں۔ناقابل تقسیم سے مراد یہ ہے کہ تقسیم ہونے پر وہ نفع مند نہ رہے۔مثلاً چھوٹا سا حمام یعنی غسل خانہ ہے، یا تنگ گلی ہے۔اگر ایسی جائیداد تقسیم کی جائے تو نہ گلی کار آمد رہے گی نہ حمام۔۳) جو جائیداد قابل تقسیم اور قابل انتقال ہو ؛ یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاسکتی ہے، اس میں بھی حق شفعہ نہیں۔مثلاً اثاث البيت وغیرہ۔