صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 210 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 210

صحيح البخاری جلدم ۲۱۰ ۳۵- كتاب السلم ٢٢٤٢ - ٢٢٤٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ۲۲۲۲ - ۲۲۴۳: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ۔(کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی المجالد سے مروی ہے۔(دوسری اسناد) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ نيزكي ( بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا) عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ۔کہ ہمیں وکیع نے بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی۔حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللهِ بتایا، کہا کہ محمد بن ابی المجالد ) نے مجھے خبر دی یا یہ کہا ابْنُ أَبِي الْمُجَالِهِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللهِ که عبد الله بن ابی المجالد نے مجھے خبر دی، کہا کہ عبداللہ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ وَأَبُو بُرْدَةَ فِى بن شداد بن ہاد اور ابو بردہ (عامر بن ابی موسیٰ ) نے السَّلَفِ فَبَعَتُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى بیع سلم کے بارے میں اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھیجا۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيْرِ کے زمانہ میں گندم اور جو اور نقلی اور کھجوروں کی بیع سلم وَالزَّبِيْبِ وَالتَّمْرِ وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْرَى کیا کرتے تھے۔اور میں نے (حضرت عبدالرحمن) بن ابری سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ۔اطرافه ٢٢٤٤-٢٢٤٥، ٢٢٥٤-٢٢٥٥- تشریح : السَّلَمُ فِى كَيْلٍ مَّعْلُومٍ: سَلَم کے منے سپرد کرنا۔سلف کے معنے پیشگی دینا۔مسلم اور سلف دونوں اصطلاحیں بیع سلم کے معنوں میں استعمال ہوتی ہیں۔پہلی اصطلاح اہل حجاز کی ہے اور دوسری اہل عراق کی اور ان دونوں اصطلاحوں کا استعمال صرف اعتباری ہے۔یعنی قبل از وقت عقد بیع کے لحاظ سے اس بیچ کو سلف کہتے ہیں اور کسی شئی کی خرید کے لئے پیشگی رقم دینے کے لحاظ سے اسے بیع سلم کہیں گے۔اور یہ مبادلہ اشیاء میں اُدھار کی صورت ہے۔اسے دین بھی کہہ سکتے ہیں جس میں بدل تو نقد رقم کی شکل میں دیا جاتا ہے مگر اس کے مبادلہ کی جنس بعد میں دی جاتی ہے اور یہ بیچ سلم یا سلف ارشادِ باری تعالٰى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى کے ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ا جب تم ایک معین مدت تک کے لیے قرض کا لین دین کرو۔۔۔} (البقرة: ۲۸۳)