صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 208
صحيح البخاری جلد ۴ - ۲۰۸ X11211210 بداية الحالم ٣٥- كِتَابُ السَّلَم 0000000000 بَاب ۱ : اَلسَّلَمُ فِي كَيْلٍ مَّعْلُوْمٍ بیع سلم جو مقررہ ماپ کے ساتھ ہو ۳۵- کتاب السلم ۲۲۳۹ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۲۲۳۹ عمرو بن زرارہ نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا بن علیہ نے ہمیں بتایا، (کہا) کہ ابن ابی بھیج نے ہمیں ابْنُ أَبِي نَجِيْحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ خبر دی۔انہوں نے عبد اللہ بن کثیر (کی قاری) سے عبداللہ نے ابوالمنبال (عبدالرحمن بن مطعم ) سے، ابوالمنہال عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ آئے اور حالت دی تھی کہ لوگ پھلوں سے متعلق سال يُسْلِفُوْنَ فِي الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ أَوْ اور دو سال کی یا کہا کہ دو یا تین سال کی میعاد پر بیچ سلم قَالَ عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٌ شَكٍّ إِسْمَاعِيلُ کیا کرتے تھے۔(مدت کے بارے میں ) اسماعیل فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرِ فَلْيُسْلِفْ فِي کو شک ہے۔تب آپ نے فرمایا: جو (خریدار) كَيْلٍ مَّعْلُوْمٍ وَوَزْنٍ مَّعْلُوْمٍ۔کھجوروں کے متعلق پیشگی دے تو چاہیے کہ وہ پیشگی حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيْلُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحٍ بِهَذَا فِي كَيْلٍ مَّعْلُوْمٍ وَوَزْنٍ مَعْلُوْمٍ۔اطرافه: ٢٢٤٠، ۲۲٤١، ۲۲۵۳ قیمت دیتے وقت ماپ اور تول مقرر کرلے۔محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔اسماعیل ( بن علیہ ) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابن ابی صحیح سے یہی روایت کی کہ ( بیع سلم میں ) مقررہ ماپ اور مقررہ وزن ہو۔