صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 194
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۹۴ ۳۴- كتاب البيوع ابْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ اسماعیل نے سعید بن ابی سعید سے روایت کی ۔ انہوں أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللہ نے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین شخص ہیں جن سے قیامت ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ کے روز میں جھگڑا کروں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا نام لے کر کسی سے عہد کیا اور پھر غداری کی ۔ دوسرا وہ فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيْرًا شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ شخص جس نے مزدور کو مزدوری پر رکھا اور اس فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ۔ طرفه: ۲۲۷۰ سے پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری اُسے نہ دی۔ تشریح : إِثْمُ مَنْ بَاعَ حُوا : علامہ ابن حجر اور بیتی۔ عینی نے بعض ایسی روایا۔ ایسی روایات درج کی ہیں جن ۔ کی ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں ایک آزاد شخص جو من ایک آزاد شخص جو مقروض تھا، قرض کی ادائیگی میں فروخت کیا گیا۔ علامہ ابن حجر نے اس بارہ میں صراحت سے ذکر کیا ہے کہ شروع شروع میں ایسا کیا جاتا تھا مگر آیت وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَة (البقرة : (۲۸) کے نزول کے بعد یہ طریق منسوخ کیا گیا۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ تنگدست کو مہلت دی جائے ۔ آزاد کو بیچنے کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپنا آزاد کردہ غلام کسی نا واقف قرض خواہ کے ہاتھ اُس کا قرضہ ادا کرنے کے لئے فروخت کر دیا جائے یا اُس سے جبراً خدمت لی جائے اور اُس کی اُجرت دی جائے۔ ایسی تمام صورتیں منع ہیں۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۲۸ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۴۲ ۴۳) انسان بلحاظ آزادی سارے برابر ہیں اور اللہ کے بندے ہیں۔ اس لئے کسی انسان کا حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو فروخت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایسے ظالم شخص کو اس کے ظلم کی سزا دے گا۔ خَصم کے معنے ہیں: الْمُجَادِل۔ (اقرب الموارد - خصم کسی حق کے بارے میں جھگڑا کرنا۔ یہاں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بطور استعارہ ہے کیونکہ وہ ربّ العباد ہے اور بحیثیت حقیقی مالک ہونے کے جواب طلبی کرے گا کہ اس کے بندے کیوں بیچے گئے۔ باب ۱۰۷ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ بِبَيْعِ أَرَضِيْهِمْ حِيْنَ أَجْلَاهُمْ الله نبی ﷺ کا یہود کو جب آپ نے انہیں نکالا ، اپنی زمینوں کو بیچنے کا ارشاد فرمانا فِيْهِ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔ اس بارہ میں (سعید ) مقبری کی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔