صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 185
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۸۵ ۳۴- كتاب البيوع ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيْمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت حکیم بن حزام أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان کاموں کے متعلق بتائیے ، جنہیں میں زمانہ جاہلیت أَتَحَنَّثُ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ میں نیکی کی خاطر کیا کرتا تھا۔ ( راوی کہتا ہے کہ حضرت مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ هَلْ لِي فِيهَا حَکیم بن حزام نے الفاظ ) كُنتُ أَتَحَنَّثُ کہے تھے یا أَجْرٌ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَتَحَنَّتُ بِهَا کہے۔ یعنی صلہ رحمی، غلاموں کی آزادی اور صدقہ و خیرات کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا۔ حضرت رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حکیم رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ نے فرمایا: آپ ان نیکیوں کی وجہ سے اسلام لائے صلى صلی الله ہیں جو آپ پہلے کر چکے ہیں۔ اطرافه: ١٤٣٦، ٢٥٣٨، ٥٩٩٢ تشريح : وَقَالَ النَّبِيِّ ﷺ لِسَلْمَانَ كَاتِبُ : عنوان باب میں ن باب میں کئی ایک حوالے دیئے گئے ہیں۔ پہلا حوالہ ارشاد نبوی کا ہے جو امام احمد بن حمد امام احمد بن حنبل اور طبرانی نے محمود بن لبید سے، انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے موصولاً نقل کیا ہے۔ انہوں نے اپنے متعلق بتایا ہے کہ وہ ایک ایرانی آزاد گھرانے سے تھے۔ بنی کلب کے تاجروں نے انہیں پکڑ لیا اور وادی القری کے ایک یہودی کے پاس فروخت کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر انہوں نے تین صد کھجور کے پودوں اور چالیس اوقیہ کے عوض میں اپنی آزادی حاصل کرنے کی غرض سے تحریر لکھی۔ ( مسند احمد بن حنبل جزء ۵ صفحه (۴۴) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۱۹) (المعجم الكبير للطبراني، ماروى ابن عباس عن سلمان ، روایت نمبر ۶۰۶۵ جزء ۶ صفحه ۲۲۲) وَسُبِيَ عَمَّارٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ : دوسرا حوالہ حضرت عمار بن یا عمار بن یاسر سے متعلق ۔ لق ہے۔ ان کے والد عربی النسل عنسی قبیلہ سے تھے اور بنو مخزوم کے حلیف تھے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کی اور بنی مخزوم کے ہاں ہی حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی ہوئی جو بنی مخزوم کے موالی میں سے تھیں ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمار سے اس بناء پر غلاموں والا سلوک کیا گیا کہ ان کی ماں لونڈیوں میں سے تھیں ۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۵۲۰ ) حضرت صہیب بھی دراصل عربی النسل نمر بن قاسط موصلی کے خاندان سے تھے جو کسری کے کارکن تھے۔ دورانِ جنگ رومیوں نے انہیں قید کر لیا جبکہ وہ ابھی بچے ہی تھے۔ ان کے لب ولہجہ میں عجمی اثر غالب تھا۔ اپنے غلام یحنس کو یا ناس پکارتے تھے۔ حضرت عمر نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ تین باتیں تمہاری اوپری ہیں ؟ جن کی وجہ سے تم مجھی معلوم دیتے ہو۔ اپنی کنیت ابو یکی رکھی ہے، نمر بن قاسط کے خاندان میں سے ہونے کا دعوی ہے اور کچھ بچاتے نہیں سب خرچ کر دیتے ہو۔ تو انہوں نے اپنی قید کا قصہ سنایا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : خِيَارُكُمْ مَّنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ۔ تم سے وہی اچھے ہیں جو کھانا کھلائیں۔ اور اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے : وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ۔ (سبا: ۴۰) یعنی جو تم خرچ