صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 180
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۸۰ ۳۴- كتاب البيوع تشريح : إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ اِذْنِهِ فَرَضِیَ: یہاں بھی امام بخاریؒ، امام بخاری نے عنوان باب اذا شرطیہ سے قائم کر کے اس کا جواب محذوف کر دیا ہے۔ جمہور نے مذکورہ بالا روایت سے استدلال محض اس بناء پر جائز نہیں سمجھا کہ سابقہ شریعتیں اپنے زمانے کے لئے تھیں اور یہ ضروری نہیں کہ جس بات کی اجازت ان دنوں کے مخصوص حالات کے مطابق دی گئی ہو ، شریعت اسلامیہ میں بھی وہ جائز ہو۔ البتہ بعض فقہاء نے اس روایت سے استدلال اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ فعل کو پسند فرمایا ہے کہ اجرت بذریعہ زراعت بڑھائی گئی۔ چنانچہ اس مال میں جو کسی کے پاس بطور امانت ہو، اگر امین تجارت کرے اور نفع حاصل ہو تو امام مالک، اوزاعی، ثوری، لیف اور عطاء کے نزدیک نفع سے امین بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ اصل پونجی امانت والے کو ادا کر دی جائے۔ اول الذکر تین ائمہ نے پسند کیا ہے کہ ایسا نفع لینا امین کے لئے زیبا نہیں، بلکہ چاہیے کہ وہ صدقہ میں دے دیا جائے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد اور امام زفر کے نزدیک بھی امین کے لئے ایسا نفع لینا جائز نہیں ، بلکہ ضروری ہے کہ صدقہ میں دیدے۔ حضرت ابن عمر اور ابوقلابہ کے نزدیک ایسا نفع قطعی طور پر مال والے کے لئے ہے۔ اور اسی کے مطابق امام احمد بن حنبل اور ابن بطال وغیرہ نے فتوی دیا ہے۔ (ع دیا ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۵، ۲۶) ( تح الباری جزء ۴ صفحه ۵۱۷) بَاب ۹۹ : الشِّرَاءُ وَالْبَيْعُ مَعَ الْمُشْرِكِيْنَ وَأَهْلِ الْحَرْبِ 7 مشرک و حربی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا ٢٢١٦ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۲۱۶: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ باپ نے ابو عثمان سے، ابو عثمان نے حضرت عبدالرحمن أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اتنے میں ایک النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ جاءَ مشرک آدمی جو پراگندہ بال دراز قامت تھا، اپنی بکریوں رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌ طَوِيلٌ بِغَنَم کو ہانکتے ہوئے آیا تو نبی صل اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: يَسُوْقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ بیچنی ہیں یا عطیہ ہیں؟ ( روای کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً فَقَالَ لَا علیہ وسلم نے لفظ ) عطیہ فرمایا یا ہبہ۔ اس نے کہا: نہیں، {بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً۔ بلکہ بیچنی ہیں۔ تو آپ نے اس سے ایک بکری خریدی۔ اطرافه: ٢٦١٨، ٥٣٨٢ لفظ "بل" فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ (فتح الباری جزء ۴۰ حاشیہ صفحہ ۵۱۷ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔