صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 164
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۶۴ ۳۴- كتاب البيوع صَلَاحُهَا وَلَا تَبِيْعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ۔ نے فرمایا کہ پھل آپس میں نہ بیچا کرو تا وقتیکہ اس کی صلاحیت کی حالت ظاہر نہ ہو جائے اور خشک کھجور کے بدلے میں پھل ( جو درخت پر ہے ) نہ بیچو۔ اطرافه: ١٤٨٦، ٢١٨٣، ٢١٩٤، ٢٢٤٧، ٢٢٤٩۔ -------- تشريح : أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ فَهُوَ مِنَ الْبَائِع: اس باب کے تحت روایت نمبر ۲۱۹ میں ابن شہاب کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے لئے باب ۸۲ روایت نمبر ۲۱۸۳ بھی دیکھئے ۔ امام بخاری اس حوالہ سے یہ امر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پھل پکنے سے پہلے بیچے جائیں اور اس کے بعد بیماری وغیرہ سے نقصان ہو تو بیچ قائم رہے گی اور نقصان کی تلافی کرنا بائع کے ذمہ ہوگا کہ اس نے ارشاد نبوی کی نافرمانی کی۔ بَاب ۸۸ : شِرَاءُ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ اناج ایک وقت مقررہ کے لئے اُدھار پر خریدنا ۲۲۰۰ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ۲۲۰۰ : عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا نے ہم سے ابْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي بیان کیا، کہا: ابراہیم (بھی) کے پاس ہم نے قرضے السَّلَفِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ میں رہن رکھنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: اس میں کوئی الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قباحت نہیں۔ پھر انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى کہ اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک طَعَامًا مِّنْ يَهُودِي إِلَى أَجَلٍ فَرَهَنَهُ مقررہ وقت تک کے لئے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس دِرْعَهُ۔ کے پاس رہن رکھی ۔ اطرافه ۲۰۶۸ ، ۲۰۹۶، ۲۲۵۱ ، ٢٢٥۲، ٢٣٨٦، ٢٥٠٩، ٢٥١٣، ٢٩١٦، ٤٤٦٧۔ تشريح : شِرَاءُ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ : اس باب کا مضمون باب ۲ روایت نمبر ۲۰۱۶، باب ۳ روایت نمبر ۲۰۹ میں گزر چکا ہے۔ وہاں نقره إِلَى أَجَلٍ کی جگہ نَسِيئَةً ( یعنی اُدھار پر ) ہے اور ارشاد نبوی سے یہی مراد ہے کہ اُدھار کی صورت میں بائع کے اطمینان کے لئے اس کے پاس رہن رکھا جاسکتا ہے۔ لین دین میں رہن کی صورت کے بارے میں کتاب السلم باب ۶ دیکھئے۔ یہاں بیع سلم کے بارے میں مسئلہ بیان کرنا مقصود نہ بارے میں مسئلہ بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مد نظر ہے کہ