صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 165 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 165

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۶۵ ۳۴- كتاب البيوع اناج کی خرید اس وعدہ پر ہو کہ قیمت فلاں وقت ادا کی جائے گی۔ امام شافعی سے مذکورہ بالا یہودی کا نام ابو محمہ مروی ہے۔ نسائی کی روایت میں تمہیں صاع جو کا ذکر ہے کے منڈیوں کا تجارتی کاروبار زمانہ جاہلیت میں یہود کے ہاتھوں میں تھا۔ شریعت اسلامیہ نے تجارت میں کوئی پابندی عائد نہیں کی کہ صرف مسلمانوں ہی سے لین دین ہو بلکہ ممانعت صرف دعا و فریب کرنے والے تاجر سے ہے، خواہ کوئی ہو۔ باب ۸۹: إِذَا أَرَادَ بَيْعَ تَمْرٍ بِتَمْرٍ خَيْرٍ مِنْهُ اس بارہ میں کہ ) جب کوئی کھجور کے بدلے میں ایسی کھجور لینا چاہے جو اس سے اچھی ہو ۲۲۰۲-۲۲۰۱ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ ۲۲۰۱-۲۲۰۲: قتبیہ نے ہم سے بیان کے سے بیان کیا۔ انہوں مَّالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيْدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ نے مالک سے، مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عبد الرحمن سے، عبدالمجید نے سعید بن مسیب سے، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کو خیبر کا محصل مقرر فرمایا اور وہ آپ کے اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرِ پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جَنِيْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله نے فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا قَالَ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بخدا یا رسول اللہ ! ہم اس کا لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع کے بدلے میں مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ تو فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ ملی جلی اکٹھی کھجوریں درہم کے عوض فروخت کر دیا بِالدَّرَاهِمِ جَنِيْبًا۔ کرو۔ پھر ان درہموں سے عمدہ کھجور میں خریدو۔ اطرافه: ۲۳۰۲ - ۲۳۰۳ ، ٤٢٤٤ - ٤٢٤٥، ٤٢٤٦-٤٢٤٧، ٧٣٥٠-٧٣٥١۔ (مسند الشافعي، كتاب الرهن ، جزء اول صفحه ۱۴۸) (سنن النسائى، كتاب البيوع، باب مبايعة أهل الكتاب)