صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 158 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 158

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۵۸ ۳۴- كتاب البيوع زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّ حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے حضرت زید رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن ثابت رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے کہ وہ كَيْلًا۔ قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَالْعَرَايَا اندازے سے ماپ کر بیچی جائیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا: اور عرایا معین کھجوروں کے درخت ہیں۔ جن کے نَخَلَاتٌ مَّعْلُوْمَاتٌ تَأْتِيْهَا فَتَشْتَرِيْهَا ۔ اطرافه: ۲۱۷۳، ۲۱۸۴، ۲۱۸۸، ۲۳۸۰۔ خام پھلوں کا مبادلہ پختہ پھلوں سے تول کر کیا جائے۔ بَاب ٨٥ : بَيْعُ الشِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا پھلوں کی خرید و فروخت پیشتر اس سے کہ ان کی حالت نمایاں ہو جائے ( یعنی پھلوں کے پختہ ہونے سے پہلے ) ۲۱۹۳: وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ۲۱۹۳ اور لیٹ ( بن سعد ) نے ابوالزناد (عبداللہ بن كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ ذکوان سے نقل کیا ہے کہ عروہ بن زبیر بیان کرتے تھے کہ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِي مِنْ حضرت سہل بن ابی حمہ انصاری سے مروی ہے جو بنی حارثہ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی ہے سے روایت کرتے ہوئے ان کو بتایا، کہا: رسول اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت يَتَبَايَعُوْنَ الثَّمَارَ فَإِذَا جَنَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيْهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ إِنَّهُ صلى الله عروسة آپس میں کرتے تھے اور جب لوگ کٹائی میں مشغول ہوتے اور ان سے تقاضے ہوتے تو خریدار کہتا: پھل خراب اور کالا ہو گیا ہے، اس کو بیماری ہوگئی ہے، اسے أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ أَصَابَهُ مَرَضٌ کیڑا کھا گیا ہے کئی بیماریوں کی جتیں نکالتے تو رسل الله أَصَابَهُ قُشَامٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُوْنَ بِهَا صلى اللہ علیہ وسلم نے جب اس بارے میں جھگڑے آپ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس بہت آنے لگے، فرمایا: اگر جھگڑے نہیں لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُوْمَةُ فِي ذَلِكَ چھوڑتے تو تم آپس میں خرید و فروخت نہ کیا کرو تا وقتیکہ فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوْا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ پھل کی حالت اچھی طرح ظاہر نہ ہو جائے۔ یہ آپ