صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 142 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 142

صحيح البخاری جلد ۴ تشريح : التَّمُرُ بِالعمُرِ : : اس باب کے ۳۴- كتاب البيوع کے تعلق میں تشریح باب ۸۲ بھی دیکھئے، جہاں کھجور کے بدلے کھجور کی بیچ کا ذکر ہے۔ ہر جنس ونوع اپنے نرخ پر علیحدہ فروخت کر کے دوسری جنس اور نوع اس کے اپنے نرخ پر بیچی اور خریدی جائے؟ تا کمی بیشی اور دھو کا فریب کا احتمال نہ رہے۔ اس تعلق میں باب ۵۴ و باب ۷۶،۷۵ بھی دیکھئے۔ بَاب ٧٥ : بَيْعُ الزَّبِيْبِ بِالزَّبِيْبِ وَالطَّعَامُ بِالطَّعَامِ منتقے کی بیع منقے کے بدلے میں اور اناج کی بیع اناج کے بدلے میں ۲۱۷۱ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۲۱۷۱: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً یہ ہے کہ مجور کے تازے ہیں ہے کہ کھجور کے تازے پھل کے بدلے خشک کھجور ماپ کر بیچی جائے اور منقہ ان انگوروں کے بدلے جو وَبَيْعُ الرَّبِيْبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا۔ بیل پر ہیں ، مار ، ماپ کر بیچا جائے ۔ اطرافه ۲۱۷۲، ۲۱۸۵، ۲۲۰۵۔ ۲۱۷۲ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۱۷۲: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی ) سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ مزابنہ یہ ہے کہ الْمُزَابَنَةِ۔ قَالَ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ تَبِيْعَ الثَّمَرَ درخت پر کھجور کا ) میوه خشک ( پختہ ) میوے کے بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَّقَصَ فَعَلَيَّ بدلے میں ماپ کر اس شرط پر بیچا جائے ، اگر بڑھ گیا اطرافه: ۲۱۷۱، ۲۱۸۵، ٢٢٠٥۔ تو میرا ہو گا اور اگر کم ہوا تو اس کا نقصان مجھ پر ہے۔ ۲۱۷۳: قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ۲۱۷۳: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ) کہا کہ حضرت أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ زید بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی ہے کہ اندازہ سے ان کو بیچ دیا فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا ۔ اطرافه : ۲۱۸۴، ۲۱۸۸، ۲۱۹۲، ۲۳۸۰۔ جائے۔