صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 139 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 139

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۹ ۳۴- كتاب البيوع تشریح : مُنْتَهَى التَّلْقِى: فقہاء نے فاصلے کے بارہ میں بھی سال ) بارہ میں بھی سوال اُٹھایا ہے کہ شہر سے کس قدر دور جا کرتا۔ سے ملنا ممنوع ہے؟ اور اگر شہری اپنی ضرورت کے لئے شہر سے باہر ہو اور قافلے والے اس سے منڈی کا نرخ دریافت کریں تو کیا وہ اس کو بتائے یا نہ بتائے ؟ امام شافعی نے پہلا سوال تو نظر انداز کیا ہے۔ ان کے نزدیک قافلہ سے ملنے کے لئے شہر سے نکلنا مطلقاً منع ہے۔ منڈی کی حدود میں قافلہ والوں سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ یہی فتوی امام مالک، امام احمد بن حنبل اور اسحاق کا ہے اور اسی کی تائید روایات نمبر ۲۱۶۶، ۲۱۶۷ سے ہوتی ہے۔ جن فقہاء نے میل، دومیل یا دن یا دو دن کی مسافت کے بارہ میں جواز کا فتوی دیا ہے، ان کی تائید مستند احادیث سے نہیں ہوتی ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۲۷۶) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۴۷۴) امام بخاری نے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ ۔۔۔۔ کے الفاظ سے منڈی کے بالائی حصے کا ذکر کر کے امام شافعی وغیرہ کے مذہب کی تائید کی ہے۔ وَيُبَيِّنُهُ حَدِيثُ عَبَيْدِ اللهِ : یعنی اس امر کو عبید اللہ کی حدیث واضح کرتی ہے ۔ اس سے مرادر وایت نمبر ۲۱۶۷ ہے، جس سے اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ( نمبر ۲۱۶۶) کے الفاظ كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبانَ سے پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قافلہ والوں سے ملا کرتے تھے ؛ عبید اللہ کی روایت نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات منڈی کے اندر اس کے بالائی حصے میں ہوا کرتی تھی۔ بَاب ۷۳ : إِذَا اشْتَرَطَ شُرُوطًا فِي الْبَيْعِ لَا تَحِلُّ جب بیچ میں نا جائز شرطیں کی جائیں ٢١٦٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۶۸: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ (امام) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ جَاءَتْنِي بَرِيْرَةُ فَقَالَتْ كَاتَبْتُ أَهْلِي نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ اَوْقِيَّةٌ انہوں نے کہا کہ بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ فَأَعِيْنِيْنِي فَقُلْتُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ میں نے اپنے مالکوں سے اپنی آزادی کی تحریر کر والی أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُوْنَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ ہے کہ تو اوقیہ چاندی ان کو دی جائے گی۔ ہر سال فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ایک اوقیہ ( ادا کروں۔) سو آپ میری مدد پ میری مدد فرمائیں۔ فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ تو میں نے کہا کہ اگر تیرے مالک پسند کریں کہ میں