صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 137
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۷ ۳۴- كتاب البيوع ٢١٦٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۱۶۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعُ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَلَقَّوْا کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور تجارتی سامان السَّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا إِلَى السُّوْقِ۔ اطرافه: ۲۱۳۹، ٥١٤٢۔ لانے والوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو؛ جب تک کہ مال منڈی میں لے جا کر اتارا نہ جائے۔ تشريح : النَّهَى عَنْ تَلْقَى الرُّكْبَانِ وَأَنَّ بَيْعَهُ مَرُ دُودٌ : حقیوں اور بعض مالکیوں نے ایسی پیچ باطل اور قابل شخ قرار دی ہے بشرطیکہ نرخ کی کمی بیشی ثابت ہو۔ کیونکہ مذکورہ بالا ممانعت صرف اسی لئے ہے کہ قافلہ والوں کو نقصان نہ ہو اور اگر نرخ درست ہوں تو بیع قائم رہے گی۔ احناف کے نزدیک یہ بیع دو شرطوں کے تحت صرف اس وقت قابل رڈ ہوگی ، جب باہر جا کر سودا چکانے سے شہر والوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو، یا سامان تجارت لانے والوں پر اصل نرخ مشتبہ کر دیئے جائیں۔ اگر دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک باہر جا کر سودا ٹھہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ جمہور نے یہ طریق بھی مکروہ سمجھا ہے اور امام شافعی تو امام ابو حنیفہ کے جواز والے فتوے کے خلاف ہیں اور امام مالک کے نزدیک ایسا سامان جس میں فریب ثابت ہو ، مشتری کو رڈ کرنے کا اختیار ہے۔ ان کے اس فتوی کی بناء حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جو ایوب نے بسند محمد بن سیرین نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : أَنَّ النَّبِيُّ نَهَى أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ فَإِنْ تَلَقَّاهُ إِنْسَانٌ فَابْتَاعَهُ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ فِيهَا بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَ السُّوقَ۔ (ترمذی، كتاب البيوع، باب ما جاء في كراهية تلقى البيوع یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درآمدی سامان کو راستے میں جا کر حاصل کرنے سے روکا ہے۔ اگر وہ باہر جا کر ملا ہے اور اسے خرید لیا ہے تو سامان والے کو اختیار ہے کہ جب وہ منڈی میں آئے تو بیع قائم رکھے یا نہ رکھے۔ اس روایت کی صحت پر امام مسلم، ابوداؤد، ترندگی اور ابن خزیمہ سب کا اتفاق ہے امام مالک بھی درحقیقت فتوی جواز کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں بازار والوں کا نقصان ہے اور ان کے فتوی کی بناء حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت (نمبر ۲۱۶۵) ہے؛ جس میں صراحت ہے کہ قافلہ والوں سے باہر جا کر نہ ملا جائے۔ یہ ممانعت بطور حجت شرعی ہے، قطع نظر اس سے کہ کسی کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے ۔ خلاصہ یہ کہ اس امر میں سب ائمہ متفق ہیں کہ نرخ میں کمی ثابت ہو تو ایسی بیچ قابل فسخ ہو گی ۔ مذکورہ بالا فقہی اختلاف کے پیش نظر باب اے قائم کیا گیا ہے اور اختلاف (مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم تلقى الجلب) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في التلقي)