صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 135 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 135

صحيح البخاری جلد ۴ الله ۳۴- كتاب البيوع ٢١٦١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۲۱۶۱: محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا ، ( کہا: ) معاذ حَدَّثَنَا مُعَادٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (ابن معاذ ) نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ ) بن عون نے تے ہوئے ہم سے سے روایت کرتے ہوئے قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ محمد بن سیرین) سے روایت نُهِينَا أَنْ يَبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ۔ ۔ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس بات سے روکے گئے تھے کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے خرید وفروخت کرے۔ تشريح : لَا يَشْتَرِي حَاضِرٌ لِبَادٍ بِالسَّمْسَرَةِ: باب ۲۹ کا خلق فروخت - روخت سے ہے اور اس باب کا خریداری سے عنوان باب میں محمد بن سیرین کا حوالہ سیرین کا حوالہ منقول ہے۔ اسے ابن عوانہ نے اپنی صحیح ید عوانہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ ابن سیرین نے حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا کہ مشار الیہ ممانعت خرید و فروخت دونوں پر حاوی ہے تو انہوں نے کہا: ہاں؛ ہاں ؛ لفظ بیع کا اطلاق خرید و فروخت دونوں پر ہوتا ہے لی ابو داؤد ۔ لے ابو داؤد نے بھی اسے نقل کیا ہے ہے ابراہیم نخعی کے حوالے کی بابت علامہ ابن حجر نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ہم صفحہ (۴۷) مگر علامہ عینی نے ابن حزم کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عرب کے شہری تاجر بدوی کی ناواقفیت سے ناجائز فائدہ اُٹھایا کرتے تھے۔ اس لیے ایسی بیع شرعاً باطل اور قابل فسخ قرار دی گئی۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۲۸۳) یہ تین ابواب (نمبر ۶۸، ۷۰،۶۹) ایک ہی مضمون سے متعلق ہیں ، صرف اسلوب مختلف ہے۔ پہلے کا عنوان بصورت استفتاء ہے۔ دوسرے میں ممانعت کے بارے میں نص صریح کا ذکر ہے کہ اجرت پر خرید و فروخت میں واسطہ بننا مکروہ ہے۔ تیسرے میں دلالی سے صریح ممانعت کا ذکر ہے۔ تینوں ابواب کی روایات کو مختلف سندوں سے مضبوط کیا گیا ہے اور ابواب کی ترتیب میں تسلسل ملحوظ رکھا گیا ہے۔ دراصل یہ ممانعت اس اصل پر بنی ہے کہ خرید و فروخت میں آزادی ہو اور جتنے واسطے بائع اور مشتری کے درمیان کم ہوں گے ، اتنی ہی ارزاں ہوگی اور درمیانی وسائط کی اجرت کے بار سے آزاد رہے گی اور دھو کہ فریب کا احتمال بھی کم ہوگا۔ بَاب ۷۱ : النَّهْيُ عَنْ تَلَقِي الرُّكْبَانِ ( شہر سے باہر آگے جاکر ) قافلہ والوں سے ملنے کی ممانعت وَأَنَّ بَيْعَهُ مَرْدُوْدٌ لِأَنَّ صَاحِبَهُ عَاصِ اور ایسی خرید و فروخت قابل رد ہے۔ کیونکہ اس قسم کی آثِمٌ إِذَا كَانَ بِهِ عَالِمًا وَهُوَ خِدَاعٌ فِي خرید و فروخت کرنے والا نا فرمان اور گنہگار ہے، بشرطیکہ الْبَيْعِ وَالْخِدَاعُ لَا يَجُوْزُ۔ وہ اس ممانعت کا علم رکھتا ہو اور یہ خرید وفروخت میں ایک قسم کا فریب ہے اور دھو کہ فریب جائز نہیں۔ ا (مسند ابی عوانة، كتاب البيوع، بيان حظر بيع الحاضر للبادي، رویت نمبر ۴۹۴۶ جزء ۳۰ صفحه ۲۷۴) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب فى النهي أن يبيع حاضر لباد)