صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 132
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۲ ۳۴- كتاب البيوع بَايَعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی (اور کہا) کہ میں نے حضرت جریر وَسَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس اقرار پر بیعت کی کہ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ہیں اور نماز سنوار کر پڑھوں گا اور زکوۃ دوں گا اور (ہر وَالنَّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ۔ حکم رسول اللہ کا ) سنوں گا اور اطاعت کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔ اطرافه ٥٧، ٥٢٤، ١٤٠١، ٢٧١٤، ٢٧١٥، ٧٢٠٤۔ ٢١٥٨ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۱۵۸ : ملت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے عبداللہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ بن طاؤس سے عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ نہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قافلہ سواروں سے (جو غلہ لے کر آئیں ) آگے جا کر نہ لَا تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لَبَادٍ ملا کرو اور شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ ( طاؤس نے) قَالَ فَقُلْتُ لِابْن عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ کہا: میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا: حضور کے حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُوْنُ لَهُ سِمْسَارًا۔ اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کے لئے نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا: اس کے لئے دلال نہ بنے۔ اطرافه: ٢١٦٣، ٢٢٧٤۔ تشريح : هَلْ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِغَيْرِ أَجْرٍ وَهَلْ يُعِينُهُ: شری کا اہر جا کر وہ ظہرانے یا اس کے لئے دلالی کرنے کے بارے میں صریح ممانعت وارد ہوئی ہے۔ (دیکھئے: باب ۷۰۰۶۹ ) یہاں اس بارے -------- میں جواز کی ایک صورت بیان ہوئی ہے کہ اگر خیر خواہی مقصود ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ إِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحُ لَهُ : عنوانِ باب میں جس حدیث نبوی کا حوالہ دیا گیا ہے وہ امام احمد بن حنبل نے نقل کی ہے، اس کے یہ الفاظ ہیں: دَعُو النَّاسَ يُصِيبُ بَعْضُهُمُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحُهُ۔ (مسند احمد بن حنبل، حدیث ابن ابی زید ، جز ۳۰ صفحہ ۴۱۹) لوگوں کو رہنے دو کہ اللہ ان میں سے کسی کے ذریعے کسی کو رزق دے۔ جب کوئی شخص کسی شخص سے نیک مشورہ طلب کرے تو چاہیے کہ وہ اسے خیر خواہی