صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 123 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 123

صحيح البخاري - جلد ۴ ۱۲۳ ۳۴- كتاب البيوع ٢١٤٦: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۲۱۴۶: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن سکی حَبَّانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ بن حبان سے اور ا ابوالزناد سے، ان دونوں نے ہ رضی اللہ عنہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رض سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ۔ بیع سے منع فرمایا جو صرف چھونے یا پھینکنے سے قرار پاتی ہے۔ اطرافه: ٣٦٨، ٥٨٤ ، 588، 1993، 1145، 5819، ٥٨٢١۔ ٢١٤٧ : حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ۲۱۴۷: عياش بن ولید ( بصری) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ کیا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عطاء بن یزید سے، عطاء نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ کی۔ انہوں نے کہا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس پہننے اور دو طرح کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ۔ یعنی صرف چھو کر اور پھینک کر کوئی سامان بیچنا اور خریدنا۔ اطرافه: ٣٦٧، ١٩٩١، ۲۱٤٤ ، ٥۸۲۰، ٥٨٢٢، ٦٢٨٤ -------- تشريح : نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ : الْمُلَامَسَةُ، لَمَسَ سے باب مفاعلہ ہے۔ یعنی بغیر دیکھے کپڑا چھو کر اندازہ کر لینا کہ یہ فلاں نوعیت اور فلاں قیمت اور اتنے ماپ کا ہوگا ۔ الْمُنَابَذَةُ، نَبَذَ سے ہے جس کے معنے ہیں پھینکنا۔ اس بیچ میں بھی فروختنی اشیاء نہیں دیکھی جاتیں بلکہ یہ کیا جاتا ہے کہ جو تیرے پاس پونجی ہے وہ میری طرف پھینک دے اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینک دیتا ہوں اور کبھی یوں بھی کیا جاتا تھا کہ کنکری کپڑے کے تھانوں کی طرف پھینک دی جاتی ۔ جس پر پڑتی اُس کا مبادلہ قرار پاتا ۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۴۵۳ تا ۴۵۵) (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۶۶، ۲۶۷) بیع کی یہ دو قسمیں بھی بیچ غرر ہی کی ہیں جو تمہار بازی کی صورت رکھتی ہیں۔ وَقَالَ أَنَسٌ : باب ۹۳ روایت نمبر ۲۲۰۷ میں ؟ ب ۹۳ روایت نمبر ۲۲۰۷ میں بحوالہ حضرت انس چند اقسام بیع کی ممانعت کا ذکر ہے۔ اس تعلق میں وہ بھی دیکھی جائیں ۔ حمد عمدۃ القاری میں اس جگہ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ“ کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۶۸)