صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 114 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 114

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۱۴ ۳۴- كتاب البيوع الْخُرُوجِ قَالَ الصُّحْبَةَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مکہ سے چلے جانے کا حکم ہو چکا ہے؟ تو انہوں نے کہا: قَالَ الصُّحْبَةَ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ يا رسول اللہ میں بھی آپ کے ساتھ ہی چلوں گا۔ فرمایا: عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ ہاں ۔ آپ کو بھی ساتھ ہی چلنا ہوگا۔ حضرت ابو بکر نے فَخُذْ إِحْدَاهُمَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ۔ کہا: یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں، میں نے ان دونوں کو اسی سفر کے لئے تیار کیا ہے۔ آپ ان میں سے ایک لے لیں۔ فرمایا: میں نے قیمتا اسے لے لیا ہے۔ اطرافه: ٤٧٦ ، ٢٢٦٣، ٢٢٦٤، ۲۲٩٧، ۳۹۰۵ ، ۴۰۹۳، ٥٨٠٧، ٦٠٧٩۔ تشريح : إِذَا اشْتَرَى مَتَاعًا أَوْ دَابَّةٌ فَوَضَعَهُ عِنْدَ الْبَائِع: عنوانِ باب میں حضرت ابن عمرؓ کے قول سے قبضہ بصورت نقل مکانی کی حکمت واضح کی گئی ہے کہ اگر مشتری خرید کردہ شئے دوسری جگہ نہ لے جائے اور وہ جہاں خرید کی گئی ہے، ضائع ہو جائے تو اس نقصان کا ذمہ دار بائع نہیں ہوگا۔ ان کا محولہ بالا قول دار قطنی اور طحاوی نے نقل کیا ہے اور اور ا لفظ مَجْمُوعًا رعا بطور وضاحت بڑھایا گیا ہے۔ یعنی خرید کردہ شئے اگر اگر یہ بائع کے پاس رہے جبکہ وہ فروخت ہو چکی ہو اور وہ دوسری جگہ نہ لے جائی جائے تو پھر اس میں نقصان کا احتمال ہے۔ امام مالک نے اس مسئلہ میں فروتنی اشیاء کی اقسام سے متعلق فرق ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً کپڑا اور اناج اگر حاصل کرنے سے قبل ضائع ہو جائیں تو بائع ذمہ دار ہے۔ اور اگر غلام ، لونڈی یا چوپایہ مر جائے ، یا خرید کردہ جائیداد ضائع ہو جائے تو مشتری ذمہ دار ہے۔ (عمدة القاری جزء اصفحہ ۵ ۳۵) گویه اختلاف بھی زیر باب مد نظر ہو۔ جیسا کہ امام ابن حجر اور علامہ عینی نے ذکر کیا ہے۔ مگر دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی علت غائی اِس امر میں واضح ہوتی ہے کہ خرید کردہ اشیاء سے متعلقہ تنازعات کا سد باب ہو جاتا ہے، اگر قبضہ پوری صورت میں متحقق ہو اور اپنی جگہ پر لا کر خرید کردہ سامان محفوظ کر لیا جائے۔ روایت زیر باب کے بارے میں بعض شارحین نے یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ اس کا تعلق مسئلہ معنونہ سے بظاہر معلوم نہیں ہوتا ۔ امام ابن حجر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے خرید کر اپنی مرضی سے انہی کے پاس رہنے دیا ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفح ۴۴۴ ) فَوَضَعَهُ عِنْدَ الْبَائِعِ أَوْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ : اس فقرہ سے باب کا موضوع واضح ہو جاتا ہے اور عنوان کا دوسرا حصہ أَوْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ یہ الگ ہے اور جملہ استفہامیہ ہے۔ یعنی اگر وہ مر جائے تو کیا بیچ صحیح قرار پائے گی اور اس کا ذمہ دار بائع یا مشتری میں سے کون ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عمرؓ کے محولہ بالا قول سے دیا گیا ہے۔ اور حضرت ابن عمرؓ کا مشار الیہ قول اس روایت کے خلاف نہیں جو باب ۴۷ میں منقول ہے۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ زبانی (سنن الدار قطنی، كتاب البيوع، روایت نمبر ۲۱۵، جزء ۳۰ صفحه ۵۴،۵۳) (شرح معاني الآثار للطحاوى، كتاب البيوع، باب خيار البيعين حتى يتفرقا، جز ۴۶ صفحه ۱۶)