صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 109
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰۹ ۳۴- كتاب البيوع جنس منڈی کے نرخ پر فروخت کر کے اُس کی قیمت سے دوسری جنس خریدی جاسکتی ہے۔ ورنہ ایک جنس کا مبادلہ دوسری جنس سے اُدھار پر کمی بیشی کی صورت میں ہوگا تو یہ ناجائز ہے کیونکہ اس مبادلے میں نہ صرف سود ہی کا احتمال ہے جو نا جائز ہے بلکہ لین دین میں قبضہ کی جو بنیادی شرط ہے، وہ مفقود ہو جاتی ہے۔ الفاظ إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ جو حدیث نمبر ۲۱۳۴ میں وارد ہوئے ہیں، وہ ہر مبادلہ جنس کے ذکر پر دہرائے گئے ہیں۔ جس سے ظاہر ہے کہ بیچ کی صحت کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ قبضہ کی صورت یقینی ہو صورت یقینی ہو اور اس میں سود کا شائبہ بھی نہ پایا جائے۔ لفظ حكرة کے ایک معنے قبضہ کرنا بھی ہیں (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۴۹ ،۲۵۰) اور یہ قبضہ غلہ جات کی بیع میں ایک ضروری شرط ہے، ورنہ جیسا کہ حضرت ابن عباس نے بیان کیا ہے کہ زبانی مبادلہ سود ہوگا کیونکہ غلہ موجود نہیں جس پر قبضہ کیا جا سکے۔ مثلاً ایک سو من غلے کا سودا ایک ہزار روپے پر طے ہوا۔ پھر اسی سودے کو ایک ہزار یک صد روپے پر بیچ دیا تو یہ صورت در اصل روپے کو روپے کے عوض بیچنا ہے جو سود ہے اور اسی کا ذکر ذَاكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ وَالطَّعَامُ مرجا میں کیا گیا ہے ۔ مُرُجَا، ارجاء سے ہے اور اَرْجَاءَهُ کے معنے ہیں: اَخْرَهُ۔ اُس کو بعد میں کر دیا۔ وَالطَّعَامُ مُرْجَا کے معنی ہوں گے کہ غلہ بعد میں دیا جائے گا ۔ هَاءَ وَ هَاءَ مخفف ہے هَاتِ کا یعنی خُذْ وَهَاتِ ۔ یہ لو اور یہ دو۔ اس تعلق میں اگلا باب مع تشریح بھی دیکھئے۔ بَاب ٥٥ : بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ وَبَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ قبضہ کرنے سے پہلے اناج کی خرید و فروخت اور اُس چیز کی خرید و فروخت جو تیرے پاس موجود نہیں ٢١٣٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۱۳۵: علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن دینار سے جو عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُوْلُ بات ہمیں یاد ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے طاؤس کو کہتے سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سناکہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ يَقُوْلُ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى وہ کہتے تھے : جس چیز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ فرمایا ہے، وہ اناج ہے کہ جس کے قبضہ میں لینے سے حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَا پہلے خرید و فروخت کی جائے ۔ حضرت ابن عباس نے أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ۔ کہا: میں تو ہر چیز کو ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ طرفه: ۲۱۳۲۔