صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 87 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 87

صحيح البخاری جلد ۴ ۸۷ ۳۴- كتاب البيوع بِعْنِيْهِ فَبَاعَهُ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ قیمتا دے دیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ آپ کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فروخت کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وہ بیچ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تَصْنَعُ بِهِ مَا شِئْتَ اطرافه: ٢٦١٠، ٢٦١١۔ فرمایا: عبداللہ بن عمر یہ تمہارا ہے۔ اس سے جو چاہو کرو۔ ٢١١٦: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ ۲۱۱۶: ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اور لیٹ ( بن اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ سعد ) کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن خالد نے مجھ سے بیان عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر سے عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: امیر المومنین حضرت عثمان قَالَ بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بن عفان کو میں نے اپنی ایک جائیداد جوادی میں ابْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَالًا تھی اُن کی اس جائیداد کے بدلے میں جو خیبر میں تھی بِالْوَادِي بِمَالٍ لَّهُ بِخَيْبَرَ فَلَمَّا تَبَايَعْنَا دے دی۔ جب ہم دونوں نے ایک دوسرے سے مبادلہ کر لیا تو میں اپنی ایڑی کے بل کو ٹا یہاں تک کہ اُن کے رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ گھر سے باہر اشیا ، اس اندیشے سے کہ کہیں ؟ ں وہ اس مبادلہ بَيْتِهِ خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ وَكَانَتِ کو فتح نہ کر دیں اور یہ دستور تھا کہ بائع اور مشتری رمشتری کو اس السُّنَّةُ أَنَّ الْمُتَبَابِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى وقت تک فتح کرنے کا اختیار ہے جب تک ایک دوسرے يَتَفَرَّقَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي سے جدا نہ ہو جائیں۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے کہ جب وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُقْتُهُ میری اور ان کی بیچ لازم ہوگئی تو مجھے خیال آیا کہ میں نے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اس لئے کہ میں نے ان کو علاقہ إِلَى أَرْضِ ثَمُودَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَاقَنِي محمود کی طرف اتنی دور کر دیا ہے جو تین دن اور رار إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ لَيَالٍ۔ رات کی مسافت کے برابر ہے اور انہوں نے مجھے مدینہ کی طرف اتنا قریب کر دیا ہے جس میں تین دن اور رات کا فاصلہ ہے۔ (یعنی جو تین دن کی مسافت کے برابر ہے۔) اطرافه ۲۱۰۷، ۲۱۰۹، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳۔