صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 85 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 85

صحيح البخاری جلد ۴ ۸۵ ۳۴- كتاب البيوع عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَن عبد اللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر وسلم لرحم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وس سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کسی بائع اور مشتری بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا کے درمیان اس وقت تک بیع مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، ایسی بَيْعَ الْخِيَارِ۔ اطرافه ۲۱۰۷، ۲۱۰۹، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ٢١١٦۔ بیع کے سوا جس میں فتح کرنے کا اختیار ہو۔ ٢١١٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۱۱۴: اسحاق ( بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا کہ حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ حبان نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ أَبِي الْخَلِيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوا خلیل سے ، ابوا اسے ، ابو الخلیل نے عبداللہ بن حارث سے، عبداللہ نے حضرت حکیم عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ بن حزام رضي عنه رضی عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے فرمایا کہ بائع اور مشتری فتح کا اختیار رکھتے ہیں الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ۔ قَالَ جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔ ہمام نے کہا: میں هَمَّامٌ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي يَخْتَارُ ثَلَاثَ نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہی پایا ہے: تین بار وہ مِرَارٍ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِي اختيار رکھتا ہے۔ پس اگر ان دونوں نے سچائی سے کام بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا فَعَسَى أَنْ لیا اور کھول کر بات کی تو ان دونوں کے لئے ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی اور اگر جھوٹ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا۔ سے کام لیا اور (سودے میں) اور ( سودے میں ) عیب کو چھپایا تو ہو سکتا قَالَ وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ہے کہ وہ دونوں تھوڑا سا نفع اٹھا ئیں۔ لیکن ان کی بیع أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ میں برکت نہ ہوگی ۔ (حبان نے) کہا: اور ہمام نے ہم بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ سے بیان کیا کہ ابوالتیاح نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث سے سنا۔ وہ یہ حدیث بسند حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حکیم بن حزام نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ اطرافه ،۲۰۷۹، ۲۰۸۲، ۲۱۰۸، ۲۱۱۰ کیا عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ہے ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۳۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔