صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 78
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۸ ۳۴- كتاب البيوع مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ ام المومنین اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عائشہ نے بتایا فِيهَا تَصَاوِيْرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا ، جس میں تصویر میں تھیں۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهَةَ دروازے پر کھڑے رہے اور اندر نہ آئے۔ میں نے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ آپؐ کے چہرے سے ناب ناپسندیدگی کا اثر محسوس کیا۔ وَإِلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قُلْتُ قصور کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے آپ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا کے لئے خریدا ہے کہ آپ اس پر بیٹھیں اور تکیہ لگائیں۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات سن کر ) إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فرمایا: اِن تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے يُعَذِّبُوْنَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْرُوْا مَا خَلَقْتُمْ دن سزادی جائے گی اور اُن سے کہا جائے گا: جو تم نے وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيْهِ الصُّوَرُ بنایا ہے اس میں جان بھی ڈالو۔ اور فرمایا: وہ گھر جس لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ۔ میں تصویریں ہوں ملائکہ اس میں داخل نہیں ہوتے ۔ اطرافه: 3٢٢٤، 5181، 5957، 5961، 7557۔ تشریح : باب نمبر ۳۰ ۴۰ کی تشریح کے لیے دیکھے تشریح باب ۳۸۔ یہ دونوں ابواب بھی اسی ضمن میں ہیں ۔ نیز روایت نمبر ۲۱۰۲، ۲۱۰۳ کے تعلق میں کتاب الاجارة باب ۱۸ دیکھئے اور روایت نمبر ۲۱۰۴، ۲۱۰۵ کے تعلق میں کتاب اللباس باب ۲۵: لبس الحریر دیکھئے اور مصوری کے جواز یا عدم جواز کے تعلق میں کتاب البیوع باب ۲۵ روایت نمبر ۲۰۸۶ دیکھئے۔